فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کوئی روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں اللہ کے فضل سے حق غالب آیا اور باطل شکست سے دوچار ہوا۔ انہوں نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے‘۔ یہ کامیابی پاکستان کی قومی وحدت، عزم اور افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے معرکۂ حق کو محض ایک عسکری جھڑپ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔

معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ایک سال قبل آپریشن بنیان مرصوص کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان، اس کی عوام اور افواج کو ایک بے مثال کامیابی نصیب ہوئی۔فیلڈ مارزشل نے اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، قومی و صوبائی سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی سیاسی بصیرت اور رہنمائی سے پاکستان کو یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
دشمن کو منہ توڑ جواب
انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب سے 10 مئی تک دشمن نے پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی عزم اور وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی، جس کا منہ توڑ جواب قومی وحدت اور عسکری طاقت کے ساتھ دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025 کا معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ بھارت کے گمراہ کن اور جارحانہ رویے کا تسلسل تھا، جس میں ماضی کے مختلف واقعات اور الزامات کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان کو عسکری اور سفارتی طور پر تنہا کر دے گا، لیکن اس کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی افواج نہ پہلے کسی دباؤ سے مرعوب ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
اس موقع پر غازیوں کو بھی سلام پیش کیا گیا جنہوں نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ کہا گیا کہ ہم اپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا احسان، شہداء کی قربانیوں کو امانت اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ان تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے پرچم کی لاج رکھی۔ معرکۂ حق کے تمام شہداء اور ان کے اہلِ خانہ قوم کے لیے قابلِ فخر ہیں، جن کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور قوم پر ایک دائمی قرض ہیں۔
حکومتی اداروں اور عوام کا یکجہتی کا مظاہرہ
انہوں نے قومی قیادت، تمام حکومتی اداروں اور عوام نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح پیغام دیا کہ ملک کی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی نمائندوں نے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جبکہ میڈیا، صحافتی برادری اور نوجوانوں نے دشمن کے پروپیگنڈا اور سائبر وارفیئر کو ناکام بنایا۔
جنرل عاصم مینر نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کو اس کے اندازوں سے بڑھ کر جواب دیا۔ بری، بحری اور فضائی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔ پاک فضائیہ کی قائدانہ حکمتِ عملی نے فضائی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کیں جبکہ پاک بحریہ نے سمندری حدود کی مکمل نگرانی اور دفاع کو یقینی بنایا۔ اسی طرح زمینی محاذ پر پاک فوج نے بھرپور تیاری اور جرات کے ساتھ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنایا، جس سے قومی وحدت اور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ سامنے آیا۔
دشمن کی کمزوریاں عیاں
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران دشمن کی جارحیت اور اس کی مسلسل غلطیوں نے اس کی کمزوری اور ناکامی کو واضح کر دیا۔ بھارت کو اس جنگ کے نتیجے میں شدید جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کا اثر آنے والے وقتوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔
اس دوران فتح میزائل سسٹم اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زائد اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور برتری مزید واضح ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس مضبوط دفاعی صلاحیت اور قومی عزم کو دیکھتے ہوئے بھارت نے جنگ بندی کی خواہش مختلف عالمی اور بیرونی قوتوں کے ذریعے ظاہر کی۔ شکست خوردہ بھارت نے امریکا کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا۔
خطاب میں کہا گیا کہ الحمدللہ پاکستان کا دفاع آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔
مستقبل کی جنگیں
انہوں نے کہا روایتی جنگیں اب ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں اور مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جن میں سائبر، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کلیدی کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے پیش نظر افواجِ پاکستان کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جبکہ اسپیس پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ آرمی راکٹ فورس کمانڈ اور جدید ہتھیاروں کے حصول سمیت فتح میزائل سیریز اور نئے جنگی جہازوں کی شمولیت اسی دفاعی وژن کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قیادت کو آج عالمی ایوانوں اور بین الاقوامی فورمز میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے دوست ممالک کی تعداد میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کا مثبت کردار
فیلڈ مارشل نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کی قیادت سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں مثبت کردار ادا کیا، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں جنہوں نے ان مذاکراتی کوششوں میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسری جانب روایتی میدانِ جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت نے اپنی پرانی ریاستی پالیسی کے تحت دہشتگردی کی سرپرستی کا راستہ اپنایا ہے۔ اس نے ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
مزید پڑھئیں
امریکا ایران مذاکرات: ٹرمپ ایرانی جواب کے منتظر، مذاکرات کے نئے دور کا امکان – urdureport.com
چین میں کرپشن پر دو وزیروں کو پھانسی کی سزا – urdureport.com
ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کی سرزمین سے بھی جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں، خصوصاً فتنہ خوارج اور فتنہ بھارت کے عناصر سے پاک کرے اور دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ معزز خواتین و حضرات! آج کے دن ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ہرگز فراموش نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی ہر قومی داستان کشمیر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ مسئلۂ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ناگزیر قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا سماجی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ زمینی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان ہر فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان کی سفارت کوششیں
فیلڈ مارشل نے کہا کہ اسی طرح پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے لبنان میں جنگ بندی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا جبکہ فلسطین میں امن کے لیے بھی بھرپور حمایت جاری رکھی ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام تک اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید، عزم اور قربانی کی علامت ہے ،جبکہ افواجِ پاکستان ہر لمحہ وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ قوم کی طاقت اور یکجہتی ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے ہر مشکل دور کا سامنا حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ کیا ہے اور آئندہ بھی ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے ہر میدان میں کامیابی عطا کرے اور افواجِ پاکستان کو ہمیشہ سربلند رکھے۔ پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان پائندہ باد۔


