چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری سخت کارروائیوں کے تحت سابق وزرائے دفاع وی فینگ ہی اور لی شانگ فو کو سنگین کرپشن الزامات ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم اس سزا پر دو سال کے لیے عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ چین میں اس نوعیت کی سزا عموماً اس صورت عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے جب سزا یافتہ شخص اس مدت کے دوران مزید کسی خلاف ورزی میں ملوث نہ پایا جائے۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دونوں سابق اعلیٰ فوجی شخصیات پر بڑے پیمانے پر رشوت لینے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور فوجی تقرریوں میں ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کے الزامات عائد تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ظاہر ہوا کہ انہوں نے اپنے عہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کیے۔
یہ سزائیں صدر شی جن پنگ کی جانب سے فوجی اداروں میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے جاری وسیع احتسابی مہم کا حصہ ہیں۔ 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شی جن پنگ نے مسلح افواج میں کرپشن کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے، جس کا دائرہ گزشتہ برس چین کی حساس راکٹ فورس تک پھیل گیا تھا۔
رواں سال اس مہم میں مزید شدت دیکھی گئی، اور متعدد سینئر فوجی افسران کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں اعلیٰ جنرل زہانگ یوزیا بھی شامل ہیں، جنہیں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔
شنہوا کے مطابق سزا میں نرمی کے بعد وی فینگ ہی اور لی شانگ فو کو بغیر پیرول یا کسی اضافی رعایت کے بقیہ زندگی جیل میں گزارنا ہوگی۔
چین میں فوجی قیادت کے لیے پیغام
چینی فوج کے سرکاری اخبار پی ایل اے ڈیلی نے اس فیصلے کو فوجی قیادت کے لیے واضح پیغام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام افسران کو ان مقدمات سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ مکمل وفاداری برقرار رکھنی چاہیے۔
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں چین کی اعلیٰ فوجی قیادت کے خلاف اتنی سخت سزا غیر معمولی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی قیادت فوجی نظم و ضبط اور سیاسی کنٹرول پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔
مذید پڑھئِے
کیوبا از نیکسٹ: جہاں امریکی پابندیوں کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے – urdureport.com
تاج برطانیہ میں جڑا کوہِ نور ہیرے کا سفر: اصل حقدار کون سا ملک؟ – urdureport.com
حکومت نے آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ٹارگٹڈ سبسڈی ختم! – urdureport.com
دوسری جانب بعض بین الاقوامی دفاعی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل احتسابی کارروائیوں کے باعث چین کے فوجی کمانڈ ڈھانچے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس سے فوج کی جدید کاری اور آپریشنل تیاری متاثر ہونے کا امکان ہے۔


