• Home  
  • راولپنڈی میں لاش کو گھسیٹ کر بے حرمتی،معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا
- پاکستان

راولپنڈی میں لاش کو گھسیٹ کر بے حرمتی،معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا

راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں دو نوجوانوں کے قتل نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد اس کی لاش موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ دراصل دو فریقوں کے درمیان پیسوں کے تنازع […]

راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں دو نوجوانوں کے قتل نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں ایک نوجوان کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد اس کی لاش موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گلیوں میں گھسیٹا گیا۔

پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ دراصل دو فریقوں کے درمیان پیسوں کے تنازع سے شروع ہونے والی دشمنی کا نتیجہ تھا، جس نے چند گھنٹوں کے اندر دو جانیں لے لیں۔تاہم پیسوں کے لین دین کے معاملے کو سوشل میڈیا پر پنجابی پشتون تصادم میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پولیس کا موقف


پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز پہلے واقعے میں مقامی دکاندار سراج محسود کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سراج محسود اور 24 سالہ زین شاہ کے درمیان رقم کے لین دین کا تنازع چل رہا تھا۔ واقعے کے روز دونوں کے درمیان پہلے دکان پر تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی، تاہم وہاں موجود افراد نے معاملہ وقتی طور پر ختم کرا دیا تھا۔


ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں سراج محسود اپنے چند رشتہ داروں کے ہمراہ صلح کی نیت سے زین شاہ کے گھر پہنچے، جہاں دوبارہ جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ اسی دوران مبینہ طور پر زین شاہ کے ساتھی عون چوہدری نے فائرنگ کی، جس سے سراج محسود موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔


پولیس کا کہنا ہے کہ سراج محسود کے قتل کے بعد ان کے بعض عزیز مشتعل ہو گئے اور بدلہ لینے کے لیے زین شاہ کی تلاش شروع کر دی۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے زین شاہ کے گھر کے قریب گھات لگا کر انہیں اسلحے کے زور پر اغوا کیا اور مختلف مقامات پر لے جا کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

پوسٹمارٹم رپورٹ


پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق زین شاہ کی موت شدید تشدد کے باعث ہوئی، جبکہ ان کے جسم پر گھسیٹے جانے کے واضح نشانات بھی پائے گئے۔ پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزمان نے لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گلیوں میں گھسیٹا۔


تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزمان کی نقل و حرکت اور مقتول کو مختلف مقامات پر منتقل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ پولیس نے دونوں قتل کے مقدمات میں اب تک آٹھ افراد کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے، جبکہ مرکزی ملزمان کے وزیرستان فرار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


دوسری جانب سراج محسود کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے چھاپوں کے دوران ان کے خاندان کی خواتین کو بھی حراست میں لیا اور تھانے منتقل کیا۔ تاہم راولپنڈی پولیس کے ترجمان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خاتون کو گرفتار نہیں کیا گیا، البتہ دونوں مقدمات کی تفتیش کے سلسلے میں متعدد افراد زیر حراست ہیں اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

پنجاب سکولوں میں موسم گرما کی طویل تعطیلات کا اعلان

انمول پنکی کی بغیر ہتھکڑی پیشہ کا سخت نوٹس،جوڈیشل ریمانڈ پر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!