انڈیا میں مودی سرکار نے تقریباً چار برس بعد پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر بڑھا دیے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور عوامی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث مقامی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے بعد قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔
نئی قیمتوں کے بعد دارالحکومت New Delhi میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 97.77 بھارتی روپے جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
چار برس تک قیمتیں کیوں مستحکم رہیں؟

بھارت میں آخری مرتبہ 2022 میں پیٹرول اور ڈیزل ی قیمتوں کو بڑھایا گیا تھا اس کے بعد حکومت نے طویل عرصے تک قیمتیں منجمد رکھیں جبکہ مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل عوامی ریلیف کے طور پر دو روپے فی لیٹر کمی بھی کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس عرصے میں بھارتی حکومت نے کئی معاشی اقدامات کے ذریعے عوام پر فوری بوجھ منتقل ہونے سے روکے رکھا، جن میں روس سے رعایتی خام تیل کی خریداری، مقامی ریفائننگ صلاحیت اور بعض ٹیکسوں میں کمی شامل تھی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتا موازنہ
بھارت India میں محدود اضافے کے برعکس پاکستان Pakistan میں رواں برس فروری سے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں petrol and Diesel prices میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو آئی ایم ایف کی سخت شرائط بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
28 فروری 2026 کو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 259 روپے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر 415 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یوں چند ماہ میں تقریباً 162 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے اس اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونا، آئی ایم ایف شرائط، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکس وصولیوں کا دباؤ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم Ali Pervaiz Malik نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی معاہدوں اور درآمدی اخراجات کے باعث سخت فیصلے کرنا پڑے۔
اسی طرح Ahsan Iqbal نے تیل پر بڑھتی لیوی کو کمزور ٹیکس نظام سے جوڑا تھا اور کہا تھا کہ جب براہِ راست ٹیکس وصولی کم ہو تو حکومت کو متبادل ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں۔
ایران تنازع اور عالمی منڈی کا دباؤ
28 فروری کو Iran پر Isr*ae*l اور United States کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس سے عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوئی۔ ایک مرحلے پر خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جبکہ حالیہ دنوں میں یہ 100 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔
بھارت اپنی تیل ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے۔ اس درآمدی تیل میں سب سے بڑا حصہ روس سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ Saudi Arabia، United Arab Emirates اور Iraq بھی اہم سپلائرز ہیں۔
اپوزیشن کی مودی حکومت پر تنقید
بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے قیمتوں میں اضافے کو انتخابات کے بعد عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
مذید پڑھئِے
آبنائے ہرمز:ایسی گزرگاہ کیسے بن گئی جو عالمی معشیت کو ڈبونے کی صلاحیت رکھتی ہے – urdureport.com
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر پٹرول پر لیوی بڑھا کر بوجھ عوام پر ڈالا – urdureport.com
پارٹی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ریاستی انتخابات کے دوران حکومت نے مصنوعی طور پر قیمتیں قابو میں رکھیں اور اب “ریکوری” شروع کر دی گئی ہے۔سوشل میڈیا پر بھی بھارتی صارفین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی کہ تیل کا کوئی بحران نہیں تو پھر اچانک قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحران کے باوجود بھارت میں اضافہ محدود رکھا گیا جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان قیمتوں کے فرق کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں روپے کی قدر میں شدید کمی کے باعث درآمدی تیل مہنگا پڑا جبکہ بھارت میں کرنسی نسبتاً مستحکم رہی۔ اس کے علاوہ بھارت کے پاس وسیع ریفائننگ نظام موجود ہے جس کے ذریعے خام تیل کو مقامی سطح پر پراسیس کر کے نسبتاً کم لاگت پر ایندھن تیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ عوامی قیمتوں کو مزید اوپر لے گیا جبکہ بھارت نے بعض اوقات ٹیکس کم کر کے قیمتوں کو محدود رکھنے کی کوشش کی۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں توانائی پالیسی، ٹیکس نظام اور معاشی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


