پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال ان دنوں اپنی ذاتی زندگی اور ایک مبینہ ہراسانی کیس کے باعث خبروں میں ہیں۔ اداکارہ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف آن لائن شکایت درج کرائی گئی ہے، جس پر متعلقہ اداروں نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

مومنہ اقبال کی بہن اور وکیل رمشا اقبال نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کیس سے متعلق تمام دستیاب شواہد حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور اداروں کی جانب سے مثبت پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے کو میڈیا میں زیر بحث لانے کے بجائے قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مومنہ اقبال کا نکاح
رمشا اقبال کے مطابق مومنہ اقبال کو حکومتی سطح پر سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے جبکہ ان کے سسرال کے گھر پر بھی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اداکارہ کا نکاح یکم جون کو طے ہے اور یہ ایک ارینج میرج ہے۔ ان کے بقول دونوں خاندانوں کے درمیان پہلے سے کوئی قریبی تعلق نہیں تھا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے منگیتر اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، تاہم وہ قانونی جنگ بھرپور انداز میں جاری رکھیں گی۔ رمشا اقبال کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باعث وہ بغیر شواہد کسی مقدمے کی پیروی نہیں کرتیں۔
ثاقب چدھڑ کے وکیل کا موقف
دوسری جانب ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رشتہ ختم ہونے کے بعد مالی معاملات سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رشتہ طے ہونے کے دوران بعض اہم معلومات سامنے آنے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں رشتے کا معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
واضح رہے کہ مومنہ اقبال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی نمایاں اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی اداکاری کے باعث شہرت حاصل کر چکی ہیں۔ کیس سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق متعلقہ اداروں کی قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
مذید پڑھئِے


