آزاد کشمیر (Azad Kashmir) میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee) کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث معمولاتِ زندگی مسلسل پانچویں روز بھی متاثر رہے۔ مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے جبکہ اشیائے خورونوش کی ترسیل بھی کئی علاقوں میں متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر احتجاجی کارکنوں نے مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے آمدورفت محدود کرنے کی کوشش کی۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد راستوں کو دوبارہ کھول دیا اور ٹریفک بحال کر دی۔
دارالحکومت مظفرآباد (Muzaffarabad) میں بازاروں اور تجارتی مراکز کی بڑی تعداد بند رہی، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیا کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض شہری ضروری سامان کے لیے خیبر پختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) کے قریبی علاقوں سے خریداری کرتے رہے۔
ضلعی انتظامیہ کا موقف
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شہر میں داخل ہونے والی تمام بڑی سڑکیں کھلی ہیں اور کسی بھی فرد یا گروہ کو راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق کئی علاقوں میں اشیائے خورونوش اور دودھ دہی کی دکانیں جزوی طور پر کھلی رہیں جبکہ کچھ تاجر محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے ایک احتجاجی رہنما سے منسلک ایک کاروباری مرکز کو بھی سیل کرنے کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم تاجروں کو زبردستی دکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کیا جا رہا۔
مظفر آباد کی جانب پیش قدمی
دوسری جانب مختلف علاقوں سے مظاہرین کے قافلوں نے مظفرآباد (Muzaffarabad) کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اداروں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ پولیس حکام کے مطابق متعدد مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی، لیکن صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔
پونچھ ڈویژن (Poonch Division) کے بعض علاقوں میں بھی احتجاجی کارکنوں کی موجودگی برقرار ہے جبکہ چند اہم شاہراہیں جزوی طور پر بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کے مطابق بعض علاقوں میں ایندھن کی سپلائی بھی محدود کر دی گئی ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال پر قابو رکھا جا سکے۔
مذید خبریں
راولاکوٹ دھرنا:لانگ مارچ کے شرکا منتشر : نئی حکمت عملی ،ایکشن کمیٹی – urdureport.com
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے احتجاجی تحریک سے وابستہ ایک درجن سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔
ایگزٹ کنٹرول لسٹ
ادھر وفاقی وزارت داخلہ (Ministry of Interior) نے آزاد کشمیر حکومت کی سفارش پر احتجاجی تنظیم کی قیادت اور اہم کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (Exit Control List – ECL) میں شامل کرنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کمیٹی آئندہ چند روز میں سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی اور اس سے وفاقی و آزاد کشمیر حکومت کو آگاہ کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ہڑتال کے طویل ہونے سے کاروباری سرگرمیاں، سپلائی چین (Supply Chain) اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ حکام اور احتجاجی قیادت کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔


