نئے ہجری سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کے غلاف (کسوہ) کی تبدیلی ایک اہم اور تاریخی مذہبی روایت سمجھی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں ہر سال یکم محرم کو بیت اللہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے، جبکہ پرانے غلاف کو نہایت احترام کے ساتھ اتار لیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں محرم الحرام کا چاند نظر آنے پر مسجد الحرام میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب ہوئی۔
سعودی میڈیا کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں 825 کلو گرام ریشم، 120 کلوگرام سونے کا پانی چڑھی ہوئی چاندی کی تاریں، 60 کلو گرام خالص چاندی اور 410 کلو گرام خام روئی استعمال ہوئی ہے۔ہر سال نئے اسلامی سال کے آغاز پر بیت اللہ کا غلاف "کسویٰ” تبدیل کیا جاتا ہے
ماضی میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی حج کے دوران نو ذوالحجہ کو کی جاتی تھی، تاہم 2022 میں سعودی حکام نے اس روایت میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ عمل نئے اسلامی سال کے پہلے دن منتقل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد ہر سال یکم محرم کو نیا کسوہ خانہ کعبہ کی زینت بنتا ہے۔
غلافِ کعبہ (کسوہ) کی تبدیلی کی سالانہ روایت یکم محرم کو ادا کی جاتی ہے، جو نئے اسلامی سال کے آغاز کی علامت ہے۔ اس موقع پر خانہ کعبہ پر نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے، جبکہ پرانا غلاف احتیاط سے اتار لیا جاتا ہے۔ pic.twitter.com/aMSSQdPVKm
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 16, 2026
خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا سلسلہ
تاریخی روایات کے مطابق خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کا سلسلہ اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یمن کے بادشاہ طبع حمیری نے پہلی مرتبہ کعبہ کو کپڑے سے ڈھانپا تھا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں چمڑے، یمنی کپڑے اور مصری قبطی کپڑے سمیت کئی اقسام کے کپڑے غلاف کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔
🎥..
اتقان يعكس حرص القيادة
#كسوة_الكعبة_المشرفة 🕋 pic.twitter.com/Rp1pcoO4yf— إمارة منطقة مكة المكرمة (@makkahregion) June 15, 2026
جدید دور میں غلافِ کعبہ مکہ مکرمہ میں قائم خصوصی کسوہ کمپلیکس میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ معیار کا ریشم اٹلی سے جبکہ سونے اور چاندی کے تار جرمنی سے درآمد کیے جاتے ہیں۔ غلاف پر قرآنی آیات اور اسلامی نقوش سنہری اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کے ذریعے نقش کیے جاتے ہیں۔
کسوہ کی تیاری
کسوہ کی تیاری ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے جس میں سینکڑوں ماہرین حصہ لیتے ہیں۔ ریشم کے دھاگوں کو مختلف مراحل میں جانچا جاتا ہے تاکہ ان کی مضبوطی، معیار اور رنگت کو یقینی بنایا جا سکے۔ غلاف کی تیاری مکمل ہونے میں تقریباً آٹھ ماہ لگتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری پر سالانہ تقریباً دو کروڑ سعودی ریال لاگت آتی ہے، جس کی وجہ سے اسے دنیا کے مہنگے ترین مذہبی غلافوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حج کے ایام میں غلافِ کعبہ کو چند میٹر اوپر اٹھا دیا جاتا ہے تاکہ زائرین کے رش کے دوران اسے نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس دوران نچلے حصے کو سفید سوتی کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔
مذید خبریں
خانہ کعبہ کے اوپر سورج : لاکھوں مسلمانوں نے منفرد فلکیاتی منظر دیکھا – urdureport.com
سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور سے متعلق آثارِ قدیمہ کی دریافت – urdureport.com
غلاف کی تبدیلی کے بعد پرانے کسوہ کو محفوظ طریقے سے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جنہیں بعد میں مختلف اسلامی شخصیات، سربراہانِ مملکت اور معزز مہمانوں کو بطور یادگار پیش کیا جاتا ہے۔


