وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (Islamabad) میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جہاں تیزی سے بڑھتی آبادی، زیر زمین پانی کی گرتی سطح اور محدود آبی وسائل نے شہریوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پانی کا بحران
گزشتہ چند برسوں میں اسلام آباد (Islamabad) اور اس سے ملحقہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تعمیرات اور آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ابتدا میں پانی کی فراہمی ٹیوب ویلوں کے ذریعے باآسانی ممکن تھی، لیکن مسلسل استعمال کے باعث متعدد ٹیوب ویل خشک ہو چکے ہیں، جبکہ نجی بورنگ بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے رہی۔ اس صورتحال کے بعد ہزاروں خاندان روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے ماہانہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پانی کی طلب اور رسد میں بڑا فرق
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد (Islamabad) کی آبادی 23 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ شہر کو روزانہ تقریباً 447 ملین لیٹر پانی درکار ہے۔ اس کے برعکس دستیاب پانی صرف 270 ملین لیٹر کے لگ بھگ ہے، جس کے باعث طلب اور رسد میں بڑا فرق پیدا ہو چکا ہے۔
اس وقت شہر کو پانی سملی ڈیم (Simly Dam)، راول ڈیم (Rawal Dam) اور خان پور ڈیم (Khanpur Dam) کے علاوہ متعدد ٹیوب ویلوں سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم بیشتر نئے سیکٹرز اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، جس کی وجہ سے پانی کی فراہمی ایک مستقل چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
ٹینکروں پر انحصار بڑھ گیا
شدید گرمی کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، جہاں کئی علاقوں میں ایک ہی واٹر ٹینکر کو متعدد گھروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ نجی ٹینکرز کی قیمتیں تین سے پانچ ہزار روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کئی گھرانوں کا صرف پانی کا ماہانہ خرچ ہزاروں روپے تک جا پہنچا ہے۔
بحران سے نمٹنے کے منصوبے
پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (Capital Development Authority – CDA) نے شاہدرہ ڈیم (Shahdara Dam) اور دوتارا ڈیم (Dotara Dam) سمیت نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، تاہم یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔
اس کے ساتھ بارش کے پانی کو محفوظ کرکے زیر زمین ذخائر ری چارج کرنے کے منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ نئی عمارتوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ماضی میں دریائے سندھ (Indus River) سے راولپنڈی (Rawalpindi) اور اسلام آباد (Islamabad) تک نہر کے ذریعے پانی پہنچانے کا منصوبہ بھی سامنے آیا تھا، جسے مختلف مراحل میں منظوری ملنے کے باوجود تاحال عملی شکل نہیں دی جا سکی۔
مستقبل کے لیے خدشات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے آبادی میں اضافہ اور پانی کے وسائل میں کمی جاری رہی تو آنے والے برسوں میں اسلام آباد (Islamabad) کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض ماہرین نے مستقبل میں خان پور (Khanpur) کے اطراف نئے شہری مراکز آباد کرنے یا دارالحکومت کی توسیع پر بھی غور کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ پانی کے دستیاب وسائل سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔
مذید خبریں
فریڈم شپ: دنیا کے پانیوں پر تیرنے والا یہ تصوراتی ’شہر‘ حقیت بننے جا رہا ہے – urdureport.com
بھارت کا چناب کا پانی طویل ٹنل سے بیاس میں منتقل کرنے کا منصوبہ کیا؟ – urdureport.com
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام آباد (Islamabad) کا مستقبل اب صرف شہری منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ پائیدار آبی وسائل کے مؤثر انتظام سے بھی وابستہ ہے۔ اگر پانی کی قلت پر فوری توجہ نہ دی گئی تو وفاقی دارالحکومت کو طویل المدت اور پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


