پنجاب میں عادی مجرموں اور مبینہ سماج مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تیار کیے گئے متنازع قانون پر بڑھتی تنقید کے بعد حکومت نے اس پر پیش رفت روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا ہے کہ مجوزہ بل کو مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے، جبکہ اس پر آئندہ کارروائی اگست 2026 تک مؤخر رہے گی۔
"پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئر ایکٹ 2026” کے نام سے تیار کیے گئے اس بل نے اس وقت توجہ حاصل کی جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان نے اس کے طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا۔
سپیکر کا موقف
اسمبلی اجلاس کے دوران سپیکر نے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ بل کو ان کی منظوری اور علم میں لائے بغیر متعلقہ کمیٹی کو کیسے بھیج دیا گیا۔ انہوں نے اسمبلی سیکریٹریٹ سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایوان میں پیش کیے جانے والے ہر بل کے حوالے سے سپیکر کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں، وکلا تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس مجوزہ قانون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بل میں استعمال ہونے والی بعض اصطلاحات، خصوصاً "سماج مخالف رویہ”، واضح طور پر بیان نہیں کی گئیں، جس کے باعث قانون کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق اگر قانون اسی شکل میں منظور کیا گیا تو اس کے ذریعے شہری آزادیوں، اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔
حکومت کا موقف
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد پیشہ ور اور عادی جرائم پیشہ افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا اور معاشرے میں امن و امان کو بہتر بنانا ہے، تاہم عوامی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے بل کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے بل کو قائمہ کمیٹی میں واپس بھیجنے کے فیصلے کو سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں توقع کی جا رہی ہے کہ مختلف فریقین کی تجاویز شامل کرنے کے بعد ہی اسے دوبارہ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔


