امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے چینی نژاد ارب پتی اور حکومتِ چین کے سخت ناقد گوو وِنگوئی (Miles Guo) کو بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں 30 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے انہیں متاثرین کو تقریباً 889 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
نیویارک کی مین ہیٹن وفاقی عدالت میں سنائے گئے فیصلے میں جج اینالیسہ ٹوریس نے کہا کہ گوو نے جمہوریت کے حامی افراد کے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور دنیا بھر سے سرمایہ کاروں سے کروڑوں ڈالر اکٹھے کر کے انہیں اپنی عیش و عشرت کی زندگی پر خرچ کیا۔
عدالت کے مطابق فراڈ اسکیم کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد کو بھاری مالی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد متاثرین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔
سرمایہ کاروں کو جعلی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا گیا
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ گوو نے 2018 سے 2023 کے دوران اپنی مختلف کمپنیوں اور منصوبوں، جن میں جی ٹی وی میڈیا گروپ، ہمالیہ فارم الائنس اور ہمالیہ ایکسچینج شامل ہیں، کے ذریعے سرمایہ کاروں سے ایک ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل کی۔
حکام کے مطابق اس رقم سے گوو نے محلات، لگژری یاٹس، ریسنگ کاریں، قیمتی فرنیچر، مہنگے ڈیزائنر ملبوسات اور دیگر شاہانہ اخراجات پورے کیے۔
عدالت میں صحت سے متعلق شکایت
سزا سنائے جانے سے قبل گوو نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جیل میں طبی مسائل کا سامنا رہا اور سماعت والے دن بھی انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت پہنچنے سے پہلے ان کی طبیعت مسلسل خراب رہی، تاہم استغاثہ نے ان دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا۔
گوو نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ وہ امریکہ چین کی کمیونسٹ حکومت کی مخالفت کے مقصد سے آئے تھے اور ان کا مؤقف آج بھی وہی ہے۔
متاثرین کے بیانات
فیصلہ سناتے ہوئے جج نے متاثرہ سرمایہ کاروں کے خطوط کا حوالہ دیا، جن میں بتایا گیا کہ فراڈ کے باعث ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ختم ہو گئی، کئی خاندان مالی بحران، ذہنی دباؤ اور سماجی مشکلات کا شکار ہوئے۔
عدالت نے کہا کہ گوو نے اپنے اقدامات پر کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا بلکہ مسلسل اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے۔
سٹیو بینن سے قربت
گوو وِنگوئی گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ میں مقیم تھے اور خود کو چینی حکومت کا مخالف قرار دیتے رہے۔ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور سیاسی حکمت عملی کے ماہر سٹیو بینن کے بھی قریبی ساتھی رہے، جن کے ساتھ انہوں نے 2020 میں چین کی حکومت کے خلاف ایک سیاسی مہم بھی شروع کی تھی۔
دفاع کا مؤقف
گوو کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل چینی حکومت کی سیاسی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنے اور ان کے خلاف مقدمہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ دفاع کا کہنا تھا کہ گوو نے ماضی میں چینی حکام کی مبینہ کرپشن کو بے نقاب کیا، جس کے بعد انہیں چین چھوڑنا پڑا۔
مذید خبریں
امریکہ میں پراسرار چٹان جو خلائی مخلوق ی یاد دلاتی ہیں – urdureport.com
وکلا نے مزید کہا کہ گوو پر عائد الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور طویل سزا چین کی جانب سے اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوششوں کو تقویت دے گی۔
تاہم وفاقی عدالت نے دفاع کے دلائل مسترد کرتے ہوئے گوو وِنگوئی کو مالی فراڈ کے متعدد الزامات میں مجرم قرار دیا اور 30 سال قید کے ساتھ 889 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔


