Devils Tower National Monument کی پُراسرار چٹان نما بلند ساخت نصف صدی سے انسانوں کو خلائی مخلوق اور یو ایف اوز کی کہانیوں کی یاد دلاتی رہی ہے۔ امریکی ریاست Wyoming میں واقع یہ 867 فٹ بلند قدرتی ستون 1977 کی مشہور سائنس فکشن فلم Close Encounters of the Third Kind کے بعد دنیا بھر میں شہرت حاصل کر گیا۔
ہدایت کار Steven Spielberg کی اس فلم میں اداکار Richard Dreyfuss نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا تھا جو یو ایف او دیکھنے کے بعد ایک پراسرار پہاڑی شکل کا جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ فلم کے چند اہم مناظر 1976 میں ڈیولز ٹاور کے قریب فلمائے گئے تھے۔
سیاحوں کا رش
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق پارک حکام کے مطابق فلم کی ریلیز کے بعد سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اس سے پہلے سالانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد یہاں آتے تھے، مگر فلم کے بعد یہ تعداد بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔ آج بھی بے شمار لوگ صرف اس فلم کی وجہ سے اس مقام کو دیکھنے آتے ہیں۔

یہ عجیب و غریب چٹانی ساخت اپنی منفرد شکل کی وجہ سے قدرتی طور پر بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ بعض سیاح اسے “قدرت کا عجوبہ” قرار دیتے ہیں۔ یہاں آنے والے کئی افراد نے بتایا کہ بچپن میں فلم دیکھنے کے بعد وہ ہمیشہ اس مقام کو حقیقت میں دیکھنے کے خواہش مند تھے۔
روحانی اہمیت
ڈیولز ٹاور صرف فلمی شہرت تک محدود نہیں بلکہ اس کی تاریخی اور روحانی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ 1906 میں امریکہ کی پہلی قومی یادگار قرار دی گئی تھی۔ اس سے بہت پہلے یہ مقامی امریکی قبائل کے لیے ایک مقدس مقام کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے اور آج بھی یہاں درختوں پر دعائیہ کپڑے اور مذہبی نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
مختلف مقامی قبائل اس چٹان سے متعلق اپنی روایتی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ بعض قبائل اسے “بیئر لاج” یا “ریچھ کا گھر” کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق چٹان پر موجود لمبی دراڑیں ایک دیوہیکل ریچھ کے پنجوں کے نشانات ہیں، جو دو بچیوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
فلم اور خلائی مخلوق سے جڑی کہانیوں نے اگرچہ اس علاقے کی سیاحت کو بہت فروغ دیا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج تک کسی حقیقی یو ایف او کو نہیں دیکھا۔ البتہ ایک مقامی خاتون نے ہنستے ہوئے کہا کہ علاقے میں موبائل سگنلز اکثر غائب رہتے ہیں، اس لیے وہ اس کا ذمہ دار “خلائی مخلوق” کو ٹھہراتی ہیں۔
کروڑوں سال پرانی چٹان
ماہرین ارضیات کے مطابق یہ چٹانی ستون تقریباً پانچ کروڑ سال پہلے زمین کے اندر موجود میگما کے ٹھنڈا ہونے سے وجود میں آیا۔ بعد میں اردگرد کی نرم زمین کٹتی گئی جبکہ سخت چٹانی حصہ باقی رہ گیا، جس سے یہ منفرد ستون نما ساخت ابھر کر سامنے آئی۔
یہ مقام راک کلائمبرز کے لیے بھی انتہائی مشہور ہے۔ ہر سال تقریباً پانچ ہزار افراد اس چٹان پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارک میں کئی پیدل راستے موجود ہیں جہاں سے سیاح مختلف زاویوں سے اس عجوبے کا نظارہ کرتے ہیں۔
مقامی رہائشی اوگڈن ڈرسکل، جن کے خاندان کی زمین فلم کی شوٹنگ کے لیے استعمال ہوئی تھی، کا کہنا ہے کہ یہ جگہ واقعی روحانی کیفیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق یہاں آنے والے اکثر لوگ اس منظر سے گہرا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
فلم کی شوٹنگ کے دوران Steven Spielberg نے ڈرسکل خاندان سے ایک سادہ معاہدے کے ذریعے ان کی زمین استعمال کی۔ بعد میں اسی مقام پر ایک کیمپ گراؤنڈ قائم کیا گیا، جہاں آج بھی گرمیوں کے موسم میں کھلے آسمان تلے “کلوز انکاؤنٹرز آف دی تھرڈ کائنڈ” دکھائی جاتی ہے اور پس منظر میں ڈیولز ٹاور نمایاں نظر آتا ہے۔
مذید پڑھِیں


