چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم ملاقات میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو دنیا کے لیے سب سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات خراب ہونے سے بچانا ہوگا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تائیوان کا معاملہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے حساس مسئلہ ہے، اور اگر اسے درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو یہ خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایران سے متعلق کشیدگی اور عالمی توانائی بحران بھی زیر بحث آئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ اس بات پر متفق ہوئے کہ آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے کیونکہ یہ عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
مارکو روبیو کا بیان
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ Donald Trump نے ایران کے معاملے پر چینی قیادت سے بات ضرور کی، لیکن امریکہ نے چین سے کسی قسم کی مدد طلب نہیں کی۔ ان کے مطابق امریکہ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
مذید پڑھئِں
ٹرمپ چین میں صدر شی سے اہم ملاقاتیں: کاروباری شخصیات بھی ساتھ موجود – urdureport.com
جیفری ایپسٹین نے تین سال تک میرے ساتھ زیادتی کی،متاثرہ ازبک گرل – urdureport.com
روبیو نے بتایا کہ چین نے بھی اپنے پرانے مؤقف کو دہرایا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
کاروباری شخصیات کا خیر مقدم
ملاقات کے دوران شی جن پنگ Xi Jinping نے ان امریکی کاروباری شخصیات کا بھی خیر مقدم کیا جو صدر ٹرمپ کے ہمراہ چین پہنچیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے سربراہان چین کے ساتھ کاروباری تعلقات کو فروغ دینے کے لیے آئے ہیں۔ اس وفد میں Elon Musk اور Tim Cook سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔
تائیوان کے معاملے پر چین مسلسل سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ چین تائیوان کو اپنی سرزمین قرار دیتا ہے، حالانکہ اس نے کبھی اس جزیرے پر حکومت نہیں کی۔ دوسری جانب امریکہ تائیوان کے ساتھ مضبوط غیر رسمی تعلقات رکھتا ہے اور اسے دفاعی ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔
تائیوان عالمی معیشت میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کا بڑا مرکز ہے۔ یہی چپس دنیا بھر میں اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز، گاڑیوں اور جدید دفاعی نظاموں میں استعمال ہوتی ہیں۔


