اپ ڈیٹ
میرپور: 28 جولائی کو پیش آنے والے پرتشدد واقعے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں اب تک 10 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ جھڑپوں کے دوران تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ڈپٹی کمشنر میرپور ساجد اسلم اور ایس ایس پی میرپور نے مشترکہ بریفنگ میں کہا کہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق بعض ویڈیوز اور تصاویر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہیں یا انہیں غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام میں اشتعال پیدا کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ افواہیں پھیلانے، جعلی مواد شیئر کرنے اور امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ایس ایس پی میرپور کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد مختلف علاقوں میں زبردستی کاروباری مراکز بند کرا رہے ہیں اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر پولیس نفری قائداعظم چوک پہنچی، جہاں سے مظاہرین کچہری کی جانب بڑھ رہے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کی۔
ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ میاں محمد ٹاؤن کے علاقے میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان کی بازیابی کے لیے خصوصی آپریشن کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات پر اضافی پولیس نفری کا راستہ روکنے اور انہیں محصور کرنے کی بھی کوشش کی گئی، جبکہ جھڑپوں کے دوران کانسٹیبل عمران زخمی ہو گیا۔
حکام کے مطابق مظاہرین نے سڑکوں پر شیشے، پتھر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی، تاہم کارروائی کے دوران یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
گزشتہ سے پیوستہ
مظفرآباد : آزاد کشمیر میں حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد سیاسی اور سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے بعض وفاقی وزرا، خصوصاً وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات کے خلاف مذمتی قرارداد Condemnation Resolution پیش کر دی گئی ہے، جبکہ راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee) کے کارکنوں کے درمیان ایک بار پھر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ادھر میرپور میں دوسرے روز بھی کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ مظفرآباد میں تقریباً پچاس روز بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔
اسمبلی میں قرارداد
قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی سردار محمد یعقوب خان نے پیش کی، جس میں وفاقی وزرا کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف (Shehbaz Sharif) سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد میں راولاکوٹ کے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے "سچ اور مفاہمت کمیشن” (Truth and Reconciliation Commission) قائم کرنے اور اس کی رپورٹ آنے تک مزید کارروائیاں روکنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ قرارداد کے مطابق موجودہ حالات میں مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے سیاسی مفاہمت اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔
فائرنگ کا تبادلہ
ادھر ضلعی انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ (Rawalakot) میں بدھ کی رات کے بعد جمعرات کی صبح دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، تاہم مظاہرین نے اپنا لانگ مارچ دوبارہ شروع نہیں کیا۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee) کا مؤقف ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں اس کے متعدد کارکن ہلاک ہوئے، جبکہ حکام ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کرتے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کی بھی اطلاع دیتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے اعداد و شمار میں واضح اختلاف موجود ہے۔
سیکیورٹی اداروں کا موقف
حکومت پاکستان، آزاد کشمیر (Azad Jammu and Kashmir) انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بعض مسلح عناصر احتجاج کی آڑ میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں، بلاول بھٹو زرداری (Bilawal Bhutto Zardari)، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف سیاسی مبصرین نے طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شفاف تحقیقات، مذاکرات اور سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (Human Rights Commission of Pakistan – HRCP) نے بھی آزادانہ تحقیقات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر : راولا کوٹ کے بعد میر پور میں بھی احتجاج زخمی اور ہلاکتوں کے دعوے – urdureport.com
پس منظر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee) کئی ہفتوں سے قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں تاریخی اور آئینی بنیادوں پر ضروری ہیں، جبکہ کمیٹی انہیں مقامی نمائندگی کے خلاف قرار دیتی ہے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج شدت اختیار کر گیا، جس کے باعث انتخابات سے قبل خطے کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔


