اپ ڈیٹ سٹوری
میرپور: آزاد کشمیر کے ضلع میرپور میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان منگل کی صبح پیش آنے والے تصادم کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ واقعے کے بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے پولیس اور ایکشن کمیٹی نے ایک دوسرے سے مختلف دعوے کیے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ راولاکوٹ میں گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات کے خلاف احتجاج کے لیے ایکشن کمیٹی کے کارکن میرپور کے مرکزی تجارتی علاقے میں جمع ہوئے اور مبینہ طور پر بازار بند کرانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے کارکن راولاکوٹ میں مبینہ ہلاکتوں کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے شہدا چوک میں جمع ہوئے تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم اس دعوے کی بھی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
گزشتہ سے پیوستہ
راولاکوٹ/مظفر آباد : آزاد کشمیر میں جہا ں ایک جانب پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں پر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (Joint Awami Action Committee – JAAC) کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان پیر کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد علاقے میں بدستور کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔
آزاد کشمیر الیکشن نتائج
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ کے بعد نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 11 حلقوں کی تصویر واضح ہو چکی ہے، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) 7 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔
ہے۔ ایل اے 5 برنالہ (LA-5 Barnala) میں مسلم لیگ (ن) کے کرنل (ر) وقار احمد نور (Colonel (R) Waqar Ahmad Noor) کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری پرویز اشرف (Chaudhry Pervaiz Ashraf) پر برتری حاصل ہے، تاہم حتمی نتیجہ جاری نہیں ہوا۔ اسی طرح ایل اے 6 سماہنی (LA-6 Samahni) میں مبینہ طور پر ووٹ جلائے جانے کے واقعے کے باعث نتیجہ تاحال روک دیا گیا ہے، اگرچہ غیر حتمی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی مسلم لیگ (ن) آگے ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر (Election Commission of Azad Jammu and Kashmir) نے اب تک صرف تین حلقوں کے سرکاری نتائج جاری کیے ہیں جبکہ دیگر نشستوں کی باضابطہ توثیق کا عمل جاری ہے۔غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین کو اپنی آبائی نشست چڑھوئی، جاوید اقبال بڈھانوی کو کوٹلی نکیال اور ولید انقلابی کو کھوئی رٹہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق بھی اپنی نشست نہ بچا سکے۔
راولا کوٹ کی صورتحال
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے رات گئے جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ کے نتیجے میں اس کے 14 کارکن جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بانی رکن عمر نذیر کشمیری (Umar Nazir Kashmiri) کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر (Usman Nazir) بھی شامل ہیں۔
تاہم بی بی سی کے مطابق آزاد کشمیر پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک (Captain (R) Liaqat Ali Malik) نے ان دعوؤں کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی سرکاری یا نجی اسپتال میں ایسی لاشیں نہیں لائی گئیں جن کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تصدیق کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ہلاکت کی سرکاری تصدیق پوسٹ مارٹم اور متعلقہ ریکارڈ کے بغیر ممکن نہیں۔
پولیس حکام کے مطابق راولاکوٹ میں مظاہرین نے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے اور انہیں کمبائنڈ ملٹری اسپتال (Combined Military Hospital – CMH) منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما امتیاز اسلم (Imtiaz Aslam) نے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ یکطرفہ تھی اور ان کے کارکن پُرامن لانگ مارچ میں شریک تھے۔
لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اس کے کارکن راولاکوٹ میں موجود ہیں اور لانگ مارچ ہر صورت مظفرآباد تک جاری رکھا جائے گا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مظاہرین چار روز میں پیدل سفر مکمل کرتے ہوئے دارالحکومت پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
کمیٹی کی مجلس عاملہ کے رکن عابد شاہین (Abid Shaheen) نے الزام عائد کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بغیر اشتعال انگیزی کے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس سے ایک درجن سے زائد کارکن زخمی بھی ہوئے۔ ان کے مطابق احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

پولیس اور انتظامیہ کا مؤقف
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مختلف مقامات سے ہزاروں مظاہرین نے راولاکوٹ شہر کی جانب پیش قدمی کی، تاہم انہیں شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جبکہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی استعمال کی گئی۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) پونچھ ریجن (Poonch Region) کے جاری کردہ بیان میں الزام لگایا گیا کہ کالعدم تنظیم کے مسلح گروہوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولیس پر فائرنگ کی، جس سے دو اہلکار زخمی ہوئے۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جھڑپوں سے متعلق گمراہ کن اور من گھڑت ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو غلط معلومات فراہم کی جا سکیں۔
مذاکرات ناکام، احتجاج برقرار
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے آزاد کشمیر اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہی ہے۔ انتخابات سے قبل حکومت اور کمیٹی کے درمیان متعدد مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق کمیٹی نے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے، رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے اور گرفتار کارکنوں کی رہائی جیسے مطالبات پیش کیے، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی اور قتل سمیت سنگین مقدمات واپس لینا انتظامیہ کے اختیار میں نہیں بلکہ عدالتوں کا معاملہ ہے۔
حکومت کی کارروائیاں

آزاد کشمیر حکومت اس سے قبل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ حکام نے تنظیم کے متعدد مرکزی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جبکہ شوکت نواز میر (Shaukat Nawaz Mir)، عمر نذیر کشمیری (Umar Nazir Kashmiri)، خواجہ مہران ارشد (Khawaja Mehran Arshad) اور سردار امان خان (Sardar Aman Khan) کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا بھی اعلان کیا تھا۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر : انتخابات اور ایکشن کمیٹی کا پھر لانگ مارچ کا اعلان – urdureport.com
حکومت نے تنظیم سے وابستہ 150 سے زائد افراد کے نام فورتھ شیڈول (Fourth Schedule) میں بھی شامل کیے ہیں، جس کے تحت متعلقہ افراد کے بینک اکاؤنٹس، شناختی دستاویزات اور سفری سہولیات پر قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
آزادانہ تصدیق نہیں
واضح رہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق جو دعوے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور سرکاری حکام کی جانب سے کیے گئے ہیں، ان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔


