اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس کے ذریعے مسائل حل کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافے اور بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کے پہلے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی Mohsin Naqvi نے کہا کہ وہ عمومی طور پر سیاسی معاملات پر اظہار خیال نہیں کرتے، تاہم موجودہ حالات انہیں اس موضوع پر بات کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "یہ سسٹم جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ تباہ ہو چکا ہے system has collapsed اپ مانیں یا نہ مانیں،جمہوریت ہم سب چاہتے ہیں اور میں اس کا سب سے بڑا سپورزٹرہوں اور رہوں گا لیکن جمہوریت کے اندر بھی تین چار پانچ قسم کے نظام ہیں خالی ایک نظام موجود نہیں ہے،لیکن ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اسی کو گھسیٹنا ہے۔”
انہوں نے سوال اٹھایا، "اصلاحات کون کرے گا؟” اور کہا، "جب اجتماعی طور پر فیصلہ کیا جائے گا تو نظام کو درست کیا جا سکتا ہے۔”
انتظامی اصلاحات
وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں انتظامی اصلاحات کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، "چاہے انہیں انتظامی یونٹس کہا جائے یا صوبے، ملک کو اس سمت جانا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر ایسا فیصلہ کیا جانا چاہیے جو عوام کے سامنے رکھا جا سکے۔
محسن نقوی نے نوجوانوں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اپنے بنیادی حقوق اور میرٹ پر روزگار کا مطالبہ کر رہی ہے، اور اگر نوجوان منظم ہو گئے تو ملکی سیاست اور نظام میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، جس سے مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق مسائل کے مستقل حل کے لیے نظام کی بنیادوں میں اصلاحات ضروری ہیں۔
میڈیا سے گفتگو
بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر داخلہ نے کہا، "جب تک سیاستدان مل کر نظام کو درست نہیں کریں گے، کسی ایک ادارے یا شخصیت کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوں گی۔”
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ صدارتی نظام کی حمایت کر رہے ہیں اور واضح کیا، "میں صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہا” جبکہ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ "جمہوری نظام کو پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا۔”
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک میں مؤثر اصلاحات کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں، کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
مذید خبریں
حکومت کا اپنے ہی اٹارنی جنرل کے گھر پر چھاپہ، وجہ سامنے آگئی – urdureport.com
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی، جبکہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تمام معاملات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔
وزیر داخلہ نے وزارت خارجہ سنبھالنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی بھی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ بدستور وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں ہی انجام دے رہے ہیں۔


