اپ ڈیٹ
آزاد جموں و کشمیر عام انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کرلی۔
20 میں سے 17 حلقوں کے غیرحتمی، غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 13 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4 نشستوں پر کامیاب رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں میں شاہ غلام قادر، ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، راجہ ثاقب مجید، فاروق حیدر، چوہدری اسماعیل، محمد احسن رضا، مریم جاوید، ذیشان یونس، راجا محمد صادق، محمد عامر شاہ، سید شوکت علی شاہ، محمد یاسین اور محمد احمد رضا قادری شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مختار عباسی، دیوان چغتائی، عامر غفار لون اور عبدالماجد خان کامیاب ہوئے۔ واضح رہے کہ مظفرآباد ڈویژن کے حلقہ ایل اے-1 اور حلقہ ایل اے-2 لچھراٹ کے بعض پولنگ اسٹیشنز پر انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں، جہاں اب 4 اگست کو پولنگ ہوگی۔
گزشتہ سے پیوستہ
مظفرآباد: پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے مختلف حلقوں میں اتوار کو پولنگ مکمل ہو گئی، تاہم ووٹنگ کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (Pakistan Peoples Party – PPP) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) (Pakistan Muslim League-Nawaz – PML-N) کے درمیان دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
الیکشن کمیشن (Election Commission) نے خراب موسم اور بعض علاقوں میں پولنگ میں تاخیر کے باعث ووٹنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کی۔ اضافی وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا، جبکہ حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے تمام انتظامات مکمل ہیں اور سرکاری نتائج مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
بلاول بھٹو کا بیان
پیپلز پارٹی کے چیئرمین (Chairman) بلاول بھٹو زرداری (Bilawal Bhutto Zardari) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) طاقت کے استعمال سے عوام کے مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی شفافیت برقرار نہ رہی تو عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ انتخابی کشیدگی کے دوران ایک پارٹی کارکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ (Qamar Zaman Kaira) نے مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعض حلقوں میں انتخابی عمل متاثر کیا گیا، حتیٰ کہ پولنگ عملے کو یرغمال بنا کر بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی عمل آزاد اور شفاف نہ ہو تو نئی حکومت کی عوامی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے پہلے ہی مرحلہ وار انتخابات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات مؤخر کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔
بلاول بھٹو نے حلقہ ایل اے 31 کھاوڑہ (LA-31 Khawara) میں پارٹی رہنما صلاح الدین جونیجو (Salahuddin Junejo) پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔
رانا ثنا اللہ کا بیان
ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور (Adviser to the Prime Minister on Political Affairs) رانا ثنا اللہ (Rana Sanaullah) نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی تنقید کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اور انتخابی نتائج عوامی رائے کی عکاسی کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما مریم اورنگزیب (Marriyum Aurangzeb) نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مخالف جماعتوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ممکنہ شکست سے پریشان ہیں۔
الیکشن حکام کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کے نو انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 207 امیدوار مدمقابل ہیں، جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہوئی، جہاں 137 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ آج مظفرآباد ڈویژن کے حلقوں اور مہاجرین کے نشستوں پر ہو رہا ہے۔جن میں مظفر آباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں اور مہاجرین کی 12 نشستیں شامل ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کے وقت میں ایک گھٹنے کی توسیع کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ایک حلقے ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی، جبکہ باقی حلقوں میں معمول کے مطابق ووٹنگ جاری ہے۔ اس مرحلے میں مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی لاکھوں افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
شہر میں کشیدگی
شہر میں کشیدگی کی فضا برقرار ہے۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کے احتجاج کے بعد انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، اور جمعے کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں ایک شخص ہلاک ہوا، جس کے بعد شہر کے کئی گنجان آباد علاقوں میں رکاوٹیں لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔ حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دن کے پہلے حصے میں بیشتر پولنگ سٹیشنز پر ووٹرز کی تعداد نہایت کم رہی، جس کی وجہ حکام نے چھٹی کا دن، بارش اور رات گئے پھیلنے والی افواہیں بتائیں۔ کچھ علاقوں میں عملہ سکیورٹی وجوہات یا بند راستوں کے باعث بروقت نہ پہنچ سکا۔ ایک مقام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ تصادم اور فائرنگ کے واقعے کے بعد وہاں پولنگ روک دی گئی۔
پولنگ کی گہما گہمی کیسی ؟
پولنگ سے ایک روز قبل کیے گئے مشاہدے میں مقامی افراد میں سیاسی رہنماؤں سے شدید ناراضی دیکھی گئی۔ کئی رہائشیوں نے کہا کہ وہ اس بار ووٹ نہیں دیں گے کیونکہ موجودہ سیاسی قیادت نے بحران کے دوران انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا اور عام لوگوں کے مسائل سے لاتعلقی برتی۔ کچھ نوجوان اور خواتین البتہ پرامید تھے کہ ان کا ووٹ بہتر مستقبل اور ترقیاتی کاموں میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ افراد پہلی بار ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ حکومت تک اپنی آواز پہنچا سکیں۔
مذید خبریں
مہاجرین کشمیر کے حقیقی وارث ،ان کی نشستیں ختم نہیں ہوں گی : خواجہ آصف – urdureport.com
لائلپور کا انقلابی بھگت سنگھ: جس نے سامراج سے پھانسی کی بجائے گولی کا مطالبہ کیا – urdureport.com
خیال رہے کہ الیکشن کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) نے واضح برتری حاصل کی تھی، جہاں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 46 فیصد رہا۔ انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہو گا۔


