لاہور کے علاقے غازی آباد کے ایک تھانے میں نوجوان لڑکی سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کو عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ واقعے پر غفلت اور ناقص نگرانی کے الزام میں ایس ایچ او سمیت 78 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تھانے میں ریپ کیس Rape case in Lahore police stationمیں معطل کیے جانے والوں میں دو سب انسپکٹر، آٹھ اے ایس آئیز، محرر، ڈرائیورز اور دیگر تھانے کا عملہ شامل ہے، جبکہ تھانے میں نئے ایس ایچ او کی تعیناتی بھی کر دی گئی ہے۔
زیادتی کا وقوعہ
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے والد کی درخواست پر زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا، جس میں ریپ اور پولیس اہلکار کے مبینہ مس کنڈکٹ misconductکی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ملزم اے ایس آئی کو گرفتار کرکے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق 19 سے 20 سالہ ذہنی معذوری کا شکار لڑکی دو اگست کو گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہو گئی تھی۔ اہل خانہ کی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ ایک پولیس اہلکار اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ بعد ازاں لڑکی گھر واپس پہنچی اور اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس اہلکار نے اسے تھانے لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایس ایس پی کا بیان
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نوید قریشی کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکی کو کسی قانونی جواز کے بغیر تھانے لایا گیا، حالانکہ وہ نہ کسی مقدمے میں مطلوب تھی اور نہ ہی ملزم تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
مذید خبریں
پشاور پندرہ سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی! مقدمہ اندراج میں تاخیر – urdureport.com
پاکستان میں نئی آئینی اصلاحات اور کتنے نئے صوبے بنیں گے؟ – urdureport.com
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت، ناقص نگرانی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تھانے کے نظم و ضبط کی ذمہ داری ایس ایچ او سمیت تمام عملے پر عائد ہوتی ہے، اسی لیے احتساب کا دائرہ صرف ملزم تک محدود رکھنے کے بجائے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے تاکہ ذمہ دار اور عوام دوست پولیس نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔


