نئے شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد منگل کے روز گھٹ کر محض آٹھ رہ گئی، جو گزشتہ سات دنوں کی سب سے نچلی سطح ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی مسلسل بے چینی کے پیش نظر بحری کمپنیاں اس اہم آبی راستے کو استعمال کرنے سے کترا رہی ہیں۔
غیر ملکہ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کو امریکہ اور اسرا*ئیل کے ایران پر حملوں سے پہلے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ اسی آبنائے سے ہو کر گزرتا تھا۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں نہ صرف یہ آبی راستہ مسدود کیا بلکہ اسرائیلی اہداف اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا۔
ایران کا موقف
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ ان کی رکھی گئی شرائط پر عمل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز Strait of Hormoz بند ہی رہے گی۔
اس بندش کے باعث تیل کی عالمی سپلائی world oil supply میں خلل پڑا، جس سے توانائی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ اور افراطِ زر میں تیزی دیکھی گئی۔
ڈیٹا فرایمی کی کمپنی کیپلر
ڈیٹا فراہم کنندہ کمپنی کیپلر کی رپورٹ کے مطابق منگل کو آبنائے سے صرف آٹھ جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ دس دنوں کی اوسط تقریباً بارہ جہاز یومیہ تھی۔ یہ 5 اگست کے بعد ایک ہی دن میں گزرنے والے جہازوں کی سب سے کم تعداد ہے۔
ان میں سے صرف ایک جہاز — جو کوئلہ لے کر جا رہا تھا ,آبنائے سے باہر کی جانب گیا، باقی تمام جہاز اندر کی طرف سفر کر رہے تھے۔ آبنائے میں داخل ہونے والے سات جہازوں میں سے ہر ایک نے ایرانی سمندری حدود کا راستہ اپنایا۔


