پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری غیر معینہ مدت کی ہڑتال Goods Transporters’ Strike کے معاملے پر مختلف ٹرانسپورٹر تنظیموں کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں جن مین بعض نے ہڑتال سے لا تعلقی ظاہر کر دی ہے۔
کراچی میں آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد نے کہا کہ 14 اگست کے بعد ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کرکے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربراہ لیاقت محسود نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس ی ۔پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اس وقت جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا حصہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز کو ڈیزل کے علاوہ ٹول ٹیکس، ایکسل لوڈ، ٹریفک چالان، لائسنس، ٹیکسز اور سڑکوں کی خراب حالت سمیت متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
ہڑتال سے اختلاف
دوسری جانب ٹرانسپورٹر نصیب اللہ نے بھی موجودہ ہڑتال کے بعض مطالبات سے اختلاف کیا ہے۔ بالخصوص ایکسل لوڈ کے حوالے سے ان کا مؤقف دیگر ٹرانسپورٹر تنظیموں سے مختلف ہے۔
نصیب اللہ نے کہا کہ بھاری گاڑیوں کی قیمت کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔بھاری گاڑیاں طویل فاصلے پر سامان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایکسل لوڈ کی حد بھاری ٹرانسپورٹ کے لیے عملی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے ڈیزل، ٹول پلازوں اور ٹریفک چالان سے متعلق ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کی بھی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ ایکسل لوڈ کے موجودہ نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر مختلف آرا
گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر مختلف تنظیموں کے درمیان مطالبات اور احتجاج کی حکمت عملی پر مکمل اتفاق رائے دکھائی نہیں دے رہا۔
ایک طرف آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس حکومت سے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔
جبکہ دوسری جانب آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد نے فی الحال اس احتجاج سے خود کو الگ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے بھی ہڑتالی ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے مذاکرات کیے ہیں۔
وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔


