بدھ, 30 ستمبر 2026
  • Home  
  • دنیا کے سب سے بڑے ملک روس کے رقبے میں مزید اضافہ کیوں؟
- خاص رپورٹ

دنیا کے سب سے بڑے ملک روس کے رقبے میں مزید اضافہ کیوں؟

آرکٹک میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور پیچھے ہٹنے سے نئی زمینی سطح اور جزیرے نمودار ہونے کا امکان ہے، جس سے روس کے رقبے میں معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

روس کے آرکٹک خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور پیچھے ہٹنے کے نتیجے میں نئی زمینی سطح سامنے آنے اور نئے جزائر بننے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے ملک کے رقبے میں معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کی توجہ نوایا زیملیا اور فرانز جوزف لینڈ کے علاقوں پر مرکوز ہے، جہاں گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے نئی زمین سامنے آنے کا امکان ہے۔

آرکٹک میں نئے جزائر بننے کا امکان

سینٹ پیٹرز برگ کی ایڈمرل مکاروف اسٹیٹ یونیورسٹی میں آرکٹک اسٹڈیز کے سربراہ آندرے لیونوف نے کہا ہے کہ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے کے باعث ان علاقوں میں نئے جزائر نمودار ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، آندرے لیونوف نے واضح کیا کہ اس پیش گوئی کے بارے میں سو فیصد یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی آرکٹک کے علاقے میں نئے جزائر سامنے آچکے ہیں، تاہم نئی نمودار ہونے والی زمین ہمیشہ مستقل جزیرے کی شکل میں برقرار نہیں رہتی۔

نئی زمینی سطح کی شکل بدل سکتی ہے

ماہر کے مطابق گلیشیئر یا برفانی تودے کے پیچھے ہٹنے سے بعض اوقات کوئی نیا جزیرہ وجود میں آجاتا ہے، لیکن چند برس بعد ریت کی پٹی جزیرے کو دوبارہ خشکی سے ملا سکتی ہے۔

ایسی صورت میں الگ جزیرے کے بجائے وہ زمینی حصہ جزیرہ نما بن جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے آرکٹک تک رسائی میں اضافہ

موسمیاتی تبدیلی کے باعث آرکٹک خطہ تیزی سے قابل رسائی ہورہا ہے۔ روس اس خطے میں اقتصادی سرگرمیوں، معدنی وسائل اور بحری تجارت کے امکانات کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے۔

روس اپنے بڑے برف شکن بحری بیڑے میں بھی مزید اضافہ کر رہا ہے۔ روسی حکام کے مطابق شمالی بحری راستہ مستقبل میں عالمی تجارت کے لیے اہم بن سکتا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!