منگل, 29 ستمبر 2026
  • Home  
  • لاہور ڈیفنس کیس: غیرملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا دوسرا ملزم گرفتار
- پاکستان

لاہور ڈیفنس کیس: غیرملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا دوسرا ملزم گرفتار

لاہور پولیس نے ڈیفنس میں غیرملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں دوسرے مرکزی ملزم کو چشتیاں سے گرفتار کرلیا، جبکہ مبینہ سہولت کاری کے الزام میں ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

لاہور پولیس نے ڈیفنس کے علاقے میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں دوسرے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا، جبکہ مبینہ سہولت کاری کے الزام میں ایک خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کو چشتیاں سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد ڈیفنس انویسٹی گیشن پولیس اسے لاہور لے آئی۔

عدالت میں متاثرہ خاتون کا بیان

متاثرہ غیرملکی خاتون کا عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا تفصیلی بیان بھی سامنے آیا ہے۔ بیان میں خاتون نے تین افراد پر مبینہ زیادتی، بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

خاتون کے مطابق دو خواتین اسے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی لے گئیں، جہاں پہلے دو افراد پہنچے اور بعد میں مزید دو افراد وہاں آئے۔

متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ اسے ایک کمرے میں لے جاکر نشہ آور مشروب پلایا گیا، جس کے بعد اس سے مبینہ زیادتی کی گئی۔

تھانہ ڈیفینس سی میں درج ایف آئی آر کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ باکو کی رہائشی ہیں اور 15، 20 دن قبل کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آئی تھیں۔

مبینہ سہولت کاری پر خاتون زیرحراست

پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کی گرفتار ملزمہ کے ساتھ جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے میں بیٹھنے کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

پولیس گرفتار خاتون کے مبینہ طور پر واقعے میں سہولت کاری کے کردار کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

تیسرے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے دونوں موبائل فون تاحال برآمد نہیں ہوسکے، جبکہ تیسرے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔

کیس کے ایک مرکزی ملزم کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور مزید حقائق جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

پولیس کے مطابق غیرملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا واقعہ تین روز قبل پیش آیا تھا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!