اردو رپورٹ ڈیسک
اوپن اے آئی نے اپنے نئے اے آئی ماڈل جی پی ٹی 6.1 ایسٹرا کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کی اندرونی حفاظتی جانچ کے دوران ماڈل کے مقررہ دائرہ اختیار میں رہنے اور اپنے کیے گئے اقدامات سے متعلق صارفین کو درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت پر خدشات سامنے آئے۔
جی پی ٹی 6.1 ایسٹرا ایک ایسا خودکار اے آئی نظام تھا جو ویب براؤز کرنے اور مختلف ایپلی کیشنز استعمال کرنے سمیت پیچیدہ کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسے اکتوبر میں چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس پر جاری کیا جانا تھا۔
حفاظتی معیار پر خدشات
اوپن اے آئی کی سیفٹی سسٹمز کی سربراہ ساچی جین کے مطابق یہ ماڈل کمپنی کے مقررہ حفاظتی اور ہم آہنگی کے معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔
خدشات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ آیا ماڈل اپنے مجاز دائرہ کار تک محدود رہ سکے گا اور صارفین کو اپنے اقدامات کے بارے میں کتنی درست معلومات فراہم کرے گا۔
خودکار اے آئی ایجنٹس پر بحث تیز
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زیادہ خودمختار اے آئی نظاموں کے حوالے سے تحفظات پر بحث جاری ہے۔ ایسے اے آئی ایجنٹس خود ویب پر موجود ذرائع استعمال کرنے اور متعدد مراحل پر مشتمل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے اس سے قبل ہگنگ فیس سے متعلق ایک سیکیورٹی واقعے کا اعتراف بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ کمپنی ماڈلز کی سیکیورٹی، نگرانی اور ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اے آئی کی بڑھتی صلاحیتوں کے ساتھ اضافی حفاظتی اقدامات
اوپن اے آئی کی حفاظتی دستاویزات کے مطابق جی پی ٹی 6 ایسٹرا میں کمپیوٹر استعمال، ویب براؤزنگ اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں صلاحیتیں شامل ہیں، جبکہ ان صلاحیتوں کے باعث مزید مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔
اے آئی کی ترقی کی رفتار پر احتیاط پر زور
اس پیش رفت کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے کی بعض اہم شخصیات نے جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار اور اس سے وابستہ خطرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
ان شخصیات میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی بھی شامل ہیں۔

