اردو رپورٹ ڈیسک
مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران سے منسلک ایک گروپ نے امریکی بحری جہازوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے فوجی معلومات جمع کرنے میں مصنوعی ذہانت سے مدد لی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، گروپ نے فوجی نقشے اور سیٹلائٹ تصاویر اکٹھی کیں، جبکہ امریکی بحری جہازوں کے مواصلاتی نظام کی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کی۔
کلاڈ اے آئی کا استعمال
رپورٹ کے مطابق، یہ معلومات اینتھروپک کے تیار کردہ جدید اے آئی ماڈل ’’کلاڈ‘‘ کی مدد سے جمع کی جا رہی تھیں۔ اینتھروپک نے سرگرمی کا سراغ لگانے کے بعد اسے روک دیا۔
کمپنی نے بعد ازاں ایسی ہی دیگر سرگرمیوں اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات پر مشتمل رپورٹ جاری کی۔
مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات
اینتھروپک کی رپورٹ میں ممکنہ خطرات میں میزائلوں کی تیاری، نفسیاتی جنگ اور مخالفین کے خلاف جاسوسی و انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے جیسے معاملات شامل کیے گئے ہیں۔
امریکی فوج کا کلاڈ اے آئی استعمال
رپورٹ میں امریکی فوج کی جانب سے کلاڈ اے آئی کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے مختلف فوجی مقاصد کے لیے اینتھروپک کا تیار کردہ اے آئی ٹول استعمال کیا۔
فوجی اور سائبر سرگرمیوں پر خدشات
ان انکشافات کے بعد فوجی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس آپریشنز اور سائبر سرگرمیوں میں جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔


