پاکستانی اداکارہ درفشاں سلیم نے فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد اپنے روحانی سفر اور جذباتی تجربات مداحوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پر تصاویر کے ہمراہ ایک تفصیلی پیغام پوسٹ کیا جس میں انہوں نے حج کے دوران پیش آنے والے لمحات اور احساسات کا ذکر کیا۔

درفشاں سلیم دوران حج
حج اللہ تعالیٰ پر بھروسے کی مکمل داستان
درفشاں سلیم نے لکھا کہ حج کا یہ سفر صبر، شکرگزاری اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی ایک خوبصورت داستان تھا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہیں اپنی والدہ اور والد کے ساتھ اس مقدس فریضے کی سعادت حاصل ہوئی، جبکہ ان کے مطابق والدین نے اس سفر میں غیرمعمولی ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ رمی کے پہلے ہی دن وہ بیمار ہوگئی تھیں، تاہم اس کے باوجود حج کے تجربات ان کے لیے یادگار رہے۔
مکہ مکرمہ میں موجود درفشاں نے لکھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے ساتھ کیا لے کر جا رہی ہوں، کیونکہ یہاں بہت کچھ ایسا ہے جسے اس وقت الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، البتہ میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ میں اپنے پیچھے بہت سی جذباتی اور بوجھل کیفیتیں چھوڑ کر جا رہی ہوں، جنہیں میں کافی عرصے سے اٹھائے ہوئے تھی۔
حج اللہ کے فیصلوں کے سامنے مکمل سپردگی
انہوں نے لکھا کہ حج نے مجھے جذباتی وابستگیوں سے بلند ہو کر اللہ کے فیصلوں کے سامنے مکمل سپردگی اختیار کرنا سکھایا ہے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جسے میں بار بار خود کو یاد دلاتی رہوں گی، جسم تھکن سے چُور ہے، لیکن دل پہلے سے کہیں زیادہ مطمئن اور مسرور ہے۔
درفشاں نے سب مداحوں کو حج کی مبارک باد دیتے ہوئے دعا کی اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس فرض کی ادائیگی کی سعادت عطا فرمائے اور جب ہمیں یہ موقع ملے تو یہ سفر ہمارے ظاہر کے ساتھ ساتھ ہمارے باطن کو بھی گہرائی سے بدل دے۔ آمین۔
مذپڑھئِے
حج 2026: سعودی خواتین زائرین کی خدمت میں پیش پیش زبردست کردار – urdureport.com
میدانِ عرفات میں لاکھوں کا اجتماع، خطبۂ حج میں تقویٰ، اتحادِ امت اور امن کا پیغام – urdureport.com
انہوں نے دورانِ حج بننے والی نئی دوستوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ دعاؤں، خوشیوں اور مختلف روحانی تجربات کو بانٹنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سفر نے انہیں دین کو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں سمجھنے اور اپنانے کا سبق دیا۔
جذباتی کفیتیں
مکہ مکرمہ سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے درفشاں نے کہا کہ اس روحانی سفر کے اثرات کو مکمل طور پر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ تاہم وہ یہ ضرور محسوس کرتی ہیں کہ حج نے ان کے دل و دماغ پر موجود کئی بوجھل اور جذباتی کیفیتوں کو پیچھے چھوڑنے میں مدد دی ہے۔
اداکارہ کے مطابق حج نے مجھے جذباتی وابستگیوں سے بلند ہو کر اللہ کے فیصلوں کے سامنے مکمل سپردگی اختیار کرنا سکھایا ہے۔ شاید یہی وہ سبق ہے جسے میں بار بار خود کو یاد دلاتی رہوں گی، جسم تھکن سے چُور ہے، لیکن دل پہلے سے کہیں زیادہ مطمئن اور مسرور ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر درفشاں سلیم نے تمام مسلمانوں کو حج کی مبارک باد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کو اس عظیم فریضے کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور یہ سفر انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن میں بھی مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔ آمین۔


