گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے آج ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں 24 عمومی نشستوں پر امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مدمقابل ہیں۔ پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ووٹرز کی مجموعی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ مرد جبکہ چار لاکھ 54 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ انتخابات میں 400 سے زیادہ امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
ووٹنگ سے ایک روز قبل انتخابی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو گئیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران پورے خطے میں جلسے، ریلیاں اور تشہیری مہم چلائی جبکہ شہروں اور دیہات میں پارٹی جھنڈے اور بینرز نمایاں رہے۔
سیکیورٹی انتظامات
انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان پولیس کے مطابق 17 ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جن میں مقامی پولیس، سندھ پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پنجاب رینجرز کے دستے شامل ہیں۔ حساس پولنگ سٹیشنوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 23 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار مختلف حلقوں میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 14 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ انتخابی تعاون قائم کیا ہے کیونکہ انہیں پارٹی انتخابی نشان جاری نہیں کیا گیا۔
گلگت بلتستان کی سیاست
سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک طویل عرصے سے یہ رجحان دیکھا جاتا رہا ہے کہ وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت کو مقامی انتخابات میں نسبتاً زیادہ حمایت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہاں ووٹرز اکثر جماعتوں کے بجائے امیدواروں کی ذاتی حیثیت اور مقامی اثر و رسوخ کو ترجیح دیتے ہیں۔
مذید پڑھئِے
آزاد کشمیر کی 12 مہاجر نشستوں پر تنازع ، پورے کشمیر احتجاج میں – urdureport.com
دہشت گردی کے الزامات! آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد – urdureport.com
سکردو: جنت نظیر وادی سیاح رخ كر نے لگے – urdureport.com
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ 1947 سے قبل گلگت ایجنسی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد ازاں مختلف آئینی اور انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں یہاں خود حکمرانی کے اختیارات میں بتدریج اضافہ کیا گیا۔ 2009 میں گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے ذریعے باقاعدہ قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں آیا، جبکہ 2018 میں مزید اصلاحات کے ذریعے خطے کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔
گزشتہ انتخابات 2020 میں منعقد ہوئے تھے جن کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت قائم ہوئی تھی، تاہم بعد میں سیاسی تبدیلیوں اور عدالتی فیصلوں کے بعد مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں نے مشترکہ حکومت تشکیل دی، جس کی آئینی مدت نومبر 2025 میں مکمل ہو گئی تھی۔
آج ہونے والے انتخابات کے نتائج گلگت بلتستان کے آئندہ سیاسی منظرنامے اور حکومتی تشکیل کے حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔


