پاکستان میں سرکاری بلیو پاسپورٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے بلیو پاسپورٹ کے استعمال کا جائزہ لے گی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے قائم کی گئی اس کمیٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کریں گے۔ کمیٹی ان افراد کا ریکارڈ مرتب کرے گی جنہوں نے بلیو پاسپورٹ پر بیرون ملک سفر کیا مگر سرکاری ذمہ داریاں ادا نہیں کیں یا پاسپورٹ کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کی جائے گی۔
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق بعض ممالک نے پاکستانی سفارت خانوں سے رابطہ کر کے شکایت کی کہ بلیو پاسپورٹ رکھنے والے کچھ افراد بیرون ملک جا کر سیاسی پناہ یا مستقل رہائش اختیار کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
معاملہ کیوں زیر بحث آیا؟
یہ معاملہ اس وقت زیادہ زیر بحث آیا جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ بعض ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ نے بلیو پاسپورٹ کا مبینہ غلط استعمال کیا۔ اجلاس میں خاص طور پر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کا معاملہ زیر غور آیا، جس پر الزام ہے کہ وہ اٹلی جا کر بلیو پاسپورٹ واپس کر کے سیاسی پناہ کے لیے درخواست گزار ہوا۔
مذید پڑھئِے
سستے ڈالر یا ہنی ٹریپ ! اسلام آباد کا نوجوان کچے کے ڈاکووں کے ہتھے کیسے لگا – urdureport.com
لندن میں روحانی علاج کے بہانے جنسی زیادتی کے ملزم امام مسجد کو عمر قید – urdureport.com
اقبال آفریدی نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو ریاستی اداروں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے باعث وہ بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوا۔ ان کے مطابق ان کا بیٹا ان کی سوشل میڈیا ٹیم کا سربراہ تھا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اس معاملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ جاری نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے سرکاری پاسپورٹ کی اہمیت متاثر ہوتی ہے۔
بلیو پاسپورٹ کیا ہے ؟
حکام کے مطابق بلیو پاسپورٹ پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ، اعلیٰ سرکاری افسران اور بعض سرکاری نمائندوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو پانچ سال کے لیے یہ پاسپورٹ دیا جاتا ہے، تاہم بچوں کے بچوں کو اس سہولت کی اجازت نہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق اگر اسمبلی اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے تحلیل ہو جائے تو متعلقہ ارکان سے بلیو پاسپورٹ واپس لیے جاتے ہیں، جبکہ عدم واپسی کی صورت میں ان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں سرکاری افسران بلیو پاسپورٹ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو گئے اور بعد میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ اسی وجہ سے اب گریڈ 17 سے 20 تک کے افسران کو محدود مدت کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہے۔
ریڈ پاسپورٹ کس کو ملتا ہے؟
ریڈ پاسپورٹ پاکستان میں ڈپلومیٹک پاسپورٹ کہلاتا ہے جو ریاست کے اعلیٰ ترین نمائندوں اور سفارتی عملے کو جاری کیا جاتا ہے۔ یہ پاسپورٹ ان افراد کے لیے ہوتا ہے جو بیرونِ ملک پاکستان کی حکومت اور ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں، جیسے صدر، وزیراعظم، سفیر اور اعلیٰ سطح کے سفارت کار۔ اس کا بنیادی مقصد سفارتی سفر کو آسان بنانا اور بین الاقوامی سطح پر سرکاری فرائض کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
ریڈ پاسپورٹ رکھنے والوں کو بعض ممالک میں سفارتی مراعات اور خصوصی پروٹوکول بھی حاصل ہوتا ہے، جو ان کی سرکاری حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سینٹ میں ترمیمی بل
دوسری جانب سینیٹ میں ایک ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا ہے جس میں سابق ارکان پارلیمنٹ اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دینے کی تجویز شامل ہے۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال سے پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی متاثر ہوتی ہے۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بل کو مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔


