پی ٹی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور سابق ترجمان شیر افضل مروت نے پارٹی کی موجودہ قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور سیاسی حکمتِ عملی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اس وقت اندرونی اختلافات، کمزور فیصلہ سازی اور غیر مؤثر تنظیمی نظام کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہو چکا ہے، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی حکمتِ عملی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بعض غیر منتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے پارٹی معاملات پر منفی اثر ڈالا ہے۔
علیمہ خان پر الزام

دو برسوں میں پارٹی کو منظم اور متحرک رکھنے کے بجائے داخلی اختلافات اور ناقص فیصلوں نے نقصان پہنچایا، عوام، کارکنان، عمران خان اور ملک کے دو سال ضائع کیے گئے، تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کا موقع ملا لیکن وہ گواں دیا گیا۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن پارٹی رہے گی بھی تو ان کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی گلگت بلتستان سمیت مختلف علاقوں میں مؤثر انتخابی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا شکار رہی، اور اگر تنظیمی سطح پر کارکنوں کو متحرک کیا جاتا تو صورتحال بہتر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں موجود کارکنان کو بھرپور انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
غلط فیصلوں سے نقصان
سابق رہنما نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں داخلی اختلافات، غلط فیصلوں اور کمزور حکمتِ عملی کے باعث جماعت کو نقصان پہنچا، جبکہ عوامی سطح پر سیاسی تحریک بھی متاثر ہوئی۔ ان کے بقول کئی مواقع ضائع کیے گئے جن سے سیاسی طور پر فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔
مذید پڑھئِے
شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی کا انتخاب چیلنج کرنے کا اعلان – urdureport.com
الیکٹرک ، ہائبرڈ گاڑیوں ،سولر پینلز پر جس ایس ٹی بارے ابھی فیصلہ نہیں ہوا،وزارت – urdureport.com
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی میں اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کیا گیا اور مختلف رہنماؤں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق بعض حلقوں نے جماعتی فیصلوں پر اثر و رسوخ بڑھا کر تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کیا۔
کردار کشی کا الزام
شیر افضل مروت نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مختلف مراحل پر عہدوں سے ہٹایا گیا اور ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی گئی، جبکہ ان کے مطابق ان کے خلاف کوئی باقاعدہ انکوائری یا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ جماعت کو دوبارہ مؤثر سیاسی قوت بنایا جا سکے۔


