بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار سنجے دت نے گانے "سرکے چنر تیری سرکے” کے متنازع بولوں سے متعلق کیس میں باقاعدہ معذرت کر لی ہے اور قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی 50 بچیوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سنجے دت نیشنل کمیشن برائے خواتین کے سامنے پیش ہوئے، جہاں انہیں گانے میں مبینہ نازیبا اور فحش مواد کے حوالے سے طلب کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں گانے کے اصل بول، ترجمے یا حتمی مواد کے بارے میں کوئی پیشگی معلومات نہیں تھیں۔ ان کے مطابق ان کا کردار صرف ایک اداکار کے طور پر معاہدے کے تحت پرفارم کرنے تک محدود تھا۔
انہوں نے کمیشن کے سامنے باضابطہ معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کے احترام اور معاشرتی اقدار کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور ان کی نیت کسی بھی قسم کی بے ادبی کی نہیں تھی۔
اپنے بیان میں سنجے دت نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی 50 بچیوں کی تعلیم کے تمام اخراجات برداشت کریں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس اقدام کی پیش رفت کی رپورٹ تین ماہ کے اندر پیش کی جائے گی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گانے کے کچھ مناظر اور بولوں پر شدید تنقید کی گئی اور اسے خواتین کے احترام کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔
گانے پر پابندی کیوں لگی ؟
انڈیا میں کنڑ فلم KD: The Devil کے ایک گانے پر شدید تنازع کے بعد حکومت نے اسے تمام پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ گانا “سرکے سرکے چُنر تیری سرکے” اداکارہ Nora Fatehi اور Sanjay Dutt پر فلمایا گیا تھا، جس پر
نورا فتحی اور سنجے دت پر فلمائے گئے اس گانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ اس گیت کے بول ’فحش‘ ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


