سابق امریکی صدر باراک اوباما Barack Obamaنے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے سیاسی تشدد کی سخت مذمت کی ہے تاہم ان کے بیان پر دائیں بازو کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ فائرنگ کے محرکات کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی جمہوریت میں تشدد کو کسی صورت قبول نہ کریں۔
انہوں نے امریکی سکیورٹی ادارے یو ایس سیکرٹ سروس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان اہلکاروں کی بہادری اور قربانی روزانہ کی بنیاد پر قابلِ تحسین ہے۔ اوباما نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ زخمی اہلکار اب صحت یاب ہو رہا ہے۔
Although we don’t yet have the details about the motives behind last night's shooting at the White House Correspondents Dinner, it’s incumbent upon all us to reject the idea that violence has any place in our democracy. It’s also a sobering reminder of the courage and sacrifice…
— Barack Obama (@BarackObama) April 26, 2026
اوباما نے ایسا کیا کہا؟
اوباما کے مطابق سیاسی تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، جمہوری نظام میں اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں قابلِ احترام ہیں اور وہ زخمی اہلکار کے صحتیاب ہونے پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا حملہ آور کے مبینہ سیاسی محرکات کا براہِ راست ذکر نہیں کیا، بلکہ عمومی طور پر تشدد کی مذمت پر اکتفا کیا۔
بیان پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
اس بیان پر دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی تحریروں میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف واضح سیاسی غصہ ظاہر کیا گیا تھا اور واقعہ بظاہر سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔
ان حلقوں کے مطابق اوباما نے "محرکات واضح نہیں” کہہ کر اصل سیاسی پہلو کو کم اہمیت دی اور ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا، جسے بعض مبصرین نے غیر ضروری احتیاط یا سیاسی جانبداری قرار دیا ہے۔
یہ واقعہ ابھی زیرِ تفتیش ہے اور حکام حملے کے محرکات اور ممکنہ سیاسی پس منظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اوباما کا بیان بنیادی طور پر جمہوری اقدار، امن اور سکیورٹی اداروں کی حمایت پر مرکوز تھا، تاہم "محرکات غیر واضح ہیں” والا جملہ ہی بحث اور تنقید کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


