سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں ایک عجیب و غریب دعویٰ تیزی سے پھیل رہا ہے کہ امریکہ اور اسرا*ئیل ایران کے خلاف جنگ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں “بادل چوری” کرنے میں مصروف تھے، مگر جنگ کی وجہ سے یہ سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔ تاہم ماہرین اور سائنسی حلقے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ زیرِ بحث آیا جب عراقی رکنِ پارلیمان عبداللہ الکھیکانی نے ایک انٹرویو میں الزام لگایا کہ امریکہ طیاروں کے ذریعے بادلوں کو توڑ کر یا منتقل cloud theft کر کے خطے میں بارشوں کے نظام کو متاثر کر رہا ہے، ترکی اور ایران نے بھی اس مبینہ عمل کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں۔ تاہم وہ اپنے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔
انہوں نے مزید یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ عراق میں حالیہ بارشیں اس لیے واپس آئی ہیں کیونکہ امریکہ جنگ میں مصروف ہو کر ایسے اقدامات نہیں کر پا رہا۔ لیکن موسمیاتی ماہرین اس بات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
عراقی سائسندان کا دعویٰ
عراق کے محکمہ موسمیات کے ترجمان عامر الجابری کے مطابق یہ دعویٰ نہ سائنسی بنیاد رکھتا ہے اور نہ ہی منطقی ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کئی ماہ پہلے ہی کر دی گئی تھی، جس کا جنگ یا کسی مبینہ “بادل چوری” سے کوئی تعلق نہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسان کے پاس ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں جس کے ذریعے بادلوں کو ایک جگہ سے “چُرا” کر دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔ البتہ “کلاؤڈ سیڈنگ” نامی ایک تکنیک ضرور استعمال ہوتی ہے، جس کے ذریعے موجود بادلوں سے بارش کی مقدار میں معمولی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اس عمل میں طیاروں کے ذریعے مخصوص کیمیائی ذرات، جیسے سلور آئیوڈائیڈ، بادلوں میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ پانی کے قطرے بنیں اور بارش ہو۔ لیکن ماہرین کے مطابق اس طریقے سے بارش میں زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 فیصد اضافہ ممکن ہوتا ہے، اور یہ بھی صرف اسی صورت میں جب بادل پہلے سے موجود ہوں۔
کلاؤڈ سیڈنگ کیا ہے؟
کلاؤڈ سیڈنگ (Cloud Seeding) ایک سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے بادلوں سے بارش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ “بادل بنانا” نہیں ہوتا، بلکہ جو بادل پہلے سے موجود ہوں اُن سے زیادہ بارش نکلوانے کی کوشش ہوتی ہے۔
ماہرین اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ کلاؤڈ سیڈنگ کسی دوسرے علاقے کی بارش “چھین” سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس کا اثر بہت محدود ہوتا ہے اور موسمی نظام پر اس کا کوئی بڑا اثر نہیں پڑتا۔
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے موسمی حالات کی اصل وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، طویل ہیٹ ویوز، اور بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن اسی عالمی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ کبھی طویل خشک سالی دیکھنے میں آتی ہے اور کبھی اچانک شدید بارشیں سیلاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق لیکن حقیقت میں ایسے دعووں کا سائنسی بنیادوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مختصراً، “بادل چوری” کا نظریہ ایک افواہ لگتا ہے،
یہ بھی پڑھئِے


