امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور ذرائع کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر ابتدائی مفاہمتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ثالثی عمل سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں باقی نکات طے پا گئے تو خطے میں جاری تناؤ میں واضح کمی آ سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایران آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مجوزہ نکات پر اپنا باضابطہ مؤقف پیش کرے گا۔
ذرائع کے مطابق زیر غور 14 نکاتی فریم ورک کے تحت ایران محدود مدت کے لیے جوہری افزودگی روکنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے امریکا اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی اور تجارتی راستوں کی بحالی جیسے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق پابندیوں کے خاتمے کا عمل بھی مرحلہ وار شروع کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست اور پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ ابتدائی معاہدے کے بعد ایک ماہ کے اندر ایک جامع اور مستقل معاہدے کے لیے تفصیلی مذاکرات کا نیا دور شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا اعلان
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے آبنائے ہرمز میں جاری بحری آپریشن "پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اس لیے سفارتی عمل کو موقع دینے کے لیے عسکری سرگرمیوں میں وقفہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے
’خودکش ڈولفنز کی لڑائی‘ امریکی و ایرانی حکام کے نا قابل یقین دعوےٰ – urdureport.com
ایران جنگ ٹرمپ کے لیے بڑا جھٹکا:مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے – urdureport.com
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے اپنے حالیہ دورہ China کے دوران براہِ راست مجوزہ معاہدے پر گفتگو سے گریز کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے متوازن اور قابلِ قبول معاہدہ ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ فروری کے آخر سے Strait of Hormuz میں کشیدگی کے باعث جہاز رانی شدید متاثر رہی ہے، جبکہ متعدد بحری واقعات نے عالمی تجارتی منڈیوں اور تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھا دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں تناؤ کم ہوگا بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی مثبت اشارہ ثابت ہوگا۔


