کراچی: منشیات کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جہاں پولیس ذرائع کے مطابق “کوکین کوئین” کہلانے والی انمول عرف پنکی نے کراچی سے منشیات کے کاروبار کا آغاز کیا اور بعد ازاں لاہور منتقل ہو کر اپنے نیٹ ورک کو مزید وسعت دی۔
پولیس کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انمول عرف پنکی کو ابتدا میں ایک حساس ادارے نے تحویل میں لیا، بعد ازاں اسے گارڈن پولیس کے حوالے کیا گیا جہاں اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔ اس سے قبل بھی درخشاں پولیس اسے ایک مقدمے میں گرفتار کر چکی تھی تاہم ضمانت پر رہائی کے بعد اس نے دوبارہ مبینہ طور پر منشیات کا کاروبار شروع کر دیا۔
تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق پولیس کی دوبارہ کارروائیوں کے خدشے کے پیش نظر انمول نے کراچی چھوڑ کر لاہور میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا۔ اس دوران اس کے مبینہ کاروبار کے حوالے سے کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔انمول پنکی جو کہ شوبز ماڈلنگ کے لیے آئے تھی پھر اس گینگ کے ساتھ ملی جہاں ان کا شوہر بھی منشیات کے کاروبار سے وابستہ تھا اور یوں انمول پنکی سے پنکی ڈان کی جانب اس کا سفر شروع ہوا۔

انمول پنکی 14 سال کی عمر میں گھر سے ماڈل بننے کے لیے نکلی پھر ایک منشیات فروش سے شادی رچائی ،پہلے شوہر سے طلاق کے بعد ای پولیس افسر سے شادی کی،بھائیوں کے ساتھ ملکر منشیات کا اپنا کاروبار شروع کیا۔
انمول پنکی کا نیٹ ورک
ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر ایک خفیہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی جہاں کوکین میں مختلف کیمیکلز شامل کرکے نشے کی شدت بڑھائی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق تیار کی جانے والی منشیات کی مختلف اقسام کو کیپسول کی شکل دی جاتی تھی جن کی قیمتیں ہزاروں روپے تک تھیں۔ ایک کیپسول کی قیمت تقریباً 10 ہزار روپے جبکہ دیگر اقسام کی قیمت 20 ہزار اور 40 ہزار روپے تک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ان کیپسولز میں مختلف کیمیکلز شامل کیے جاتے تھے تاکہ نشے کے اثرات کو زیادہ خطرناک بنایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ان منشیات کی پیکنگ بھی باقاعدہ برانڈنگ کے ساتھ کی جاتی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سنہری اور سفید رنگ کے خصوصی ڈبے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیے ہیں جن پر مخصوص جملے درج تھے۔
انمول پنکی کے گاہک
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک کا ہدف زیادہ تر 16 سے 20 برس کی عمر کے نوجوان تھے، جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے۔ پولیس کے مطابق پہلے نوجوانوں کو نشے کا عادی بنایا جاتا اور بعد ازاں انہیں ہی سپلائی چین کا حصہ بنا لیا جاتا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک کے گاہکوں میں امیر گھرانوں کے نوجوان نمایاں تھے جبکہ نجی پارٹیوں اور شوبز حلقوں تک بھی منشیات کی سپلائی کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان تمام دعوؤں اور الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


