امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روزہ دورۂ چین مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے روانگی اختیار کر لی، تاہم امریکا اور چین کے درمیان موجود اہم تنازعات کے مکمل حل کی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک نے تعلقات میں استحکام اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ Donald Trump اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں ایران، تائیوان، تجارت اور عالمی سلامتی سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لیے نرم اور مثبت لہجہ اختیار کیا، جسے عالمی سطح پر کشیدہ تعلقات میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران جنگ پر بحث
امریکی نشراتی ادارے سی این این کے مطابق ایران اور اسرا*ئیل کے درمیان جاری جنگ بھی ملاقاتوں کا اہم موضوع رہی۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے پر اتفاق کیا، تاہم چین کی جانب سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے کوئی واضح اشارے سامنے نہیں آئے۔
مذید پڑھئِے
ایران میں سعودی عرب اور یو اے ای کی خفیہ کارروائیاں،رپورٹ – urdureport.com
صدر ٹرمپ کا دورہ چین،تائیوان پر خبردار کر دیا – urdureport.com
تائیوان کے معاملے پر چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس مسئلے کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کے تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے واضح کیا کہ تائیوان سے متعلق امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
اقتصادی شعبے میں بات چیت
اقتصادی شعبے میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین آئندہ برسوں میں امریکا سے بڑی مقدار میں زرعی مصنوعات خریدے گا جبکہ 200 بوئنگ طیاروں کی خریداری پر بھی اتفاق ہوا ہے، اگرچہ چین کی جانب سے ان معاہدوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
دورے کے دوران چینی قیادت نے صدر ٹرمپ کے اعزاز میں شاندار تقریبات کا اہتمام کیا، جن میں فوجی بینڈ، اعزازی گارڈ اور تاریخی مقامات کے دورے شامل تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس استقبال کو امریکا کے لیے احترام قرار دیتے ہوئے شی جن پنگ کو “سنجیدہ اور کاروباری انداز رکھنے والا رہنما” کہا۔


