بلوچستان کے ضلع مستونگ Mastung میں کسٹمز کے مرکزی گودام میں لگنے والی خوفناک آگ نے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے مالیت کے سامان اور گاڑیوں کو خاکستر کر دیا، جبکہ واقعے کے بعد ممکنہ غفلت، لوٹ مار اور سازش کے الزامات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
حکام کے مطابق کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر واقع لکپاس کے علاقے میں موجود کسٹمز گودام میں 10 مئی کو اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے احاطے کو لپیٹ میں لے لیا۔ گودام میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، غیر ملکی سامان، ٹائروں، کپڑوں، چھالیہ، سگریٹس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت بڑی مقدار میں ضبط شدہ اشیا رکھی گئی تھیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند ہفتے قبل ہی کوئٹہ کسٹمز میں کروڑوں روپے مالیت کی چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کرنے کا بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا۔ حکام کے مطابق 450 کلوگرام سے زائد چاندی غائب ہونے کے معاملے پر کئی افسران معطل جبکہ بعض گرفتار بھی کیے جا چکے ہیں۔
ایف آئی اے کا موقف
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ گودام کسٹمز کی تحویل میں تھا اس لیے تحقیقات میں Federal Investigation Agency اور محکمہ کسٹمز کا مرکزی کردار ہوگا، جبکہ سکیورٹی اور ممکنہ تخریب کاری کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
فائر بریگیڈ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث آگ بے قابو ہو گئی تھی اور کئی گھنٹوں تک شعلے بلند ہوتے رہے۔ ان کے مطابق موقع پر ایل پی جی ٹینکروں کی موجودگی نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور متعدد دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔
PDMA کے حکام کے مطابق دھماکوں اور آگ سے کم از کم 35 افراد زخمی ہوئے جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ امدادی کارروائیوں میں پی ڈی ایم اے، فائر بریگیڈ اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔
کتنی گاڑیاں جل گئیں؟
ذرائع کے مطابق آگ سے متاثر ہونے والی گاڑیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ بعض عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ 200 سے زائد گاڑیاں مکمل یا جزوی طور پر جل گئیں، جن میں ٹرک اور ایل پی جی ٹینکر بھی شامل تھے۔
مذید پڑھئِے
پاکستان میں دو بڑی چھ لین موٹر ویز کی تعمیر کی منظوری – urdureport.com
لندن میں روحانی علاج کے بہانے جنسی زیادتی کے ملزم امام مسجد کو عمر قید – urdureport.com
واقعے کی بازگشت Balochistan Assembly کے اجلاس میں بھی سنائی دی جہاں اپوزیشن ارکان نے اسے محض حادثہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بعض ارکان نے الزام لگایا کہ گودام میں آگ جان بوجھ کر لگائی گئی تاکہ اہم ریکارڈ اور قیمتی سامان کو چھپایا جا سکے۔
رکن اسمبلی رحمت بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے سے تقریباً 15 ارب روپے تک کا نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد تاجروں کا سامان اور گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں، جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔
چیف سیکریٹری کی کمیٹی
سپیکر Abdul Khaliq Achakzai نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے 30 روز میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ادھر کسٹمز حکام کی جانب سے دشت تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی یا منظم جرائم پیشہ عناصر کے ملوث ہونے کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔


