لاہور میں منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی رہائش سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ اس کے زیرِ استعمال گھر کے کرایہ نامے اور رہائش کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔

انمول پنکی کا لاھور نواب ٹاون میں کرائے پر لیا گیا پانچ مرلے کا گھر
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی نے لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرائے پر رہائش اختیار کر رکھی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ علاقہ نجی یونیورسٹیوں، طلبہ و طالبات کے ہاسٹلز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کے باعث خاصا مصروف رہتا ہے۔
گھر کا کرایہ نامہ
دستاویزات کے مطابق ملزمہ نے پانچ مرلے کا مکان ایک شہری سے حاصل کیا تھا، تاہم کرایہ نامہ براہِ راست اپنے نام پر بنانے کے بجائے “طاہر” نامی شخص کے نام پر تیار کروایا گیا۔ معاہدہ 11 ماہ کے لیے کیا گیا تھا اور اس کے لیے 300 روپے کے اسٹامپ پیپر کا استعمال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مکان کے لیے 90 ہزار روپے ایڈوانس ادا کیے گئے جبکہ ماہانہ کرایہ 45 ہزار روپے مقرر تھا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق انمول عرف پنکی گزشتہ آٹھ سے دس ماہ سے اس گھر میں مقیم تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر کے باہر اکثر مہنگی گاڑیاں کھڑی نظر آتی تھیں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی آمدورفت معمول کا حصہ تھی۔
محلہ داروں کے مطابق گھر کے باہر بعض اوقات کئی افراد مسلسل موجود رہتے تھے، جبکہ اردگرد موجود گرلز اور بوائز ہاسٹلز کی وجہ سے علاقے میں طلبہ کی سرگرمی بھی زیادہ رہتی تھی۔
رمضان میں راشن کی تقسیم
منشیات سمگلر انمول عرف پنکی کی لاہور نواب ٹاؤن کے علاقے میں واقع گھر سے گرفتاری کے معاملے پر محلہ داروں کے مختلف بیانات سامنے آگئے۔
کچھ رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ انمول نے مقامی سطح پر خود کو ایک مددگار اور نیک خاتون کے طور پر پیش کیا ہوا تھا۔ رمضان کے دوران مبینہ طور پر وہ غریب خاندانوں میں راشن بھی تقسیم کرتی رہی۔
مذید پڑھئِے
پنکی میڈم:دو روزہ ریمانڈ،بنی گالا کے شخص کا نام لینے کے لیے دباو کا الزام – urdureport.com
سستے ڈالر یا ہنی ٹریپ ! اسلام آباد کا نوجوان کچے کے ڈاکووں کے ہتھے کیسے لگا – urdureport.com
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ کی گرفتاری کے وقت اس کے والدین بھی گھر میں موجود تھے اور گرفتاری کے بعد سے مکان بند پڑا ہے۔
تحقیقات سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہی گھر مبینہ طور پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں منشیات کے نیٹ ورک کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
پولیس نے معاملے کی مکمل انکوائری شروع کر دی ہے جبکہ اعلیٰ حکام کو تفصیلی رپورٹ بھی بھجوانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اگر کسی اہلکار یا شخص کی غفلت یا معاونت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔


