اسلام آباد اور راولپنڈی کے گردونواح میں قائم بعض نجی ہاؤسنگ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے متعدد شہری برسوں گزرنے کے باوجود اپنے پلاٹ حاصل نہیں کر سکے،شہیروں کو پلاتوں کے نام پر فائل کی صورت میں کاغذ کے چند ٹکڑے تھما دئیے جاتے ہیں اور شہری اپنی عمر بھر کی جمع پونجی گنوا بھیٹے ہیں ۔
ایک ہاوسنگ سوسائٹی دی لائف ریذیڈینشیا The Life Residencia جو کہ اسلام آباد راولپنڈی اور اٹک میں موجود ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اس کے متاثرین نے گزشتہ دنوں نیب آفس کے سامنے مظاہرہ کیا ،یہ مظاہرہ اس وقت اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود اور سوسائٹی کے مالک سرفراز سیال کے خلاف کیا گیا جہاں پر ذرائع کا کہنا ہے کہ پندرہ سے بیس ہزار لوگوں نے پلاٹوں کے نام پر فائلیں خریدیں اور لوگ اپنی عمر بھر کی کمائی لٹا بیھٹے۔
متاثرین کے مطابق رہائشی پلاٹس کے لیے انہوں نے ابتدائی رقوم اور بعد ازاں اقساط کی صورت میں لاکھوں روپے جمع کروائے۔ سوسائٹی انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مخصوص رقم کی ادائیگی کے بعد پلاٹ نمبر اور قبضہ فراہم کر دیا جائے گا، تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔اور شہری نیب آفس میں درخواستیں لیر پہنچے تاہم حکومت نے بھی ابھی تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔
متعدد خریداروں کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ اپنے پلاٹس یا الاٹمنٹ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے دفاتر کا رخ کرتے ہیں تو انہیں ترقیاتی کاموں، نقشوں میں تبدیلی یا دیگر انتظامی وجوہات کا حوالہ دے کر مزید انتظار کا کہا جاتا ہے۔
فراڈ کا طریقۂ واردات کیا ہے؟
رئیل اسٹیٹ شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق بعض ہاؤسنگ سکیمیں اپنے پاس موجود اصل زمین سے کہیں زیادہ پلاٹ فائلیں فروخت کر دیتی ہیں۔ ابتدا میں محدود رقبے پر ترقیاتی کام دکھا کر بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو مستقبل کے منصوبوں اور زمین کی توسیع کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں چند درجن یا چند سو کنال زمین کی بنیاد پر ہزاروں پلاٹس فروخت کر دیے جاتے ہیں، جس کے باعث بعد میں خریداروں کو پلاٹ فراہم کرنا ممکن نہیں رہتا۔
سرمایہ کاری سے پہلے کن باتوں کی تصدیق ضروری ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری سے قبل درج ذیل امور کی جانچ ضروری ہے:
- این او سی اور دیگر قانونی منظوریوں کی تصدیق
- زمین کی ملکیت اور ریکارڈ کی جانچ
- منظور شدہ لے آؤٹ پلان کا جائزہ
- پلاٹ کی قانونی حیثیت کی تصدیق
- سوسائٹی کے ترقیاتی کاموں کا زمینی معائنہ
- ڈویلپر کی ساکھ اور سابقہ منصوبوں کی معلومات
- متعلقہ ترقیاتی اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب ریکارڈ کا مطالعہ
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف اشتہارات، بروشرز یا ایجنٹس کے دعوؤں پر اعتماد کرنا مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
مذید پڑھئِں
ثنا یوسف قتل کیس: مجرم کو سزائے موت 21 سال قید – urdureport.com
سمندری قزاقوں نے لاکھوں ڈالر تاون طلب کرلیا عملے کی طبیعت خراب – urdureport.com
فراڈ کی صورت میں کیا اقدامات کیے جائیں؟
اگر کوئی شخص ہاؤسنگ سکیم کے فراڈ کا شکار ہو جائے تو اسے فوری طور پر تمام دستاویزات اور شواہد محفوظ کرنے چاہییں، جن میں رسیدیں، معاہدے، الاٹمنٹ لیٹرز، بینک ریکارڈ، اشتہارات، پیغامات اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد پولیس، متعلقہ ترقیاتی اداروں اور سول عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے کے فراڈ کیسز میں نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔
سرکاری اداروں کی کارروائیاں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔ متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً ایسی سکیموں کی فہرستیں جاری کرتے ہیں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے مطابق حالیہ برسوں میں مختلف ہاؤسنگ منصوبوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں متاثرین کو کروڑوں روپے کی رقوم واپس دلائی گئی ہیں، جبکہ متعدد منصوبے اب بھی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جائیداد میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل قانونی اور عملی جانچ پڑتال ہی شہریوں کو فراڈ اور مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔


