امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے مجوزہ معاہدے میں متعدد نئی ترامیم تجویز کی ہیں، جس کے باعث فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی مسودہ منظوری کے آخری مراحل میں تھا، تاہم وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے بعض نکات پر مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دستاویز کو نظرِ ثانی کے لیے واپس بھجوا دیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی خبریں
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ترامیم کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور حساس مواد سے متعلق شقوں کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
مذید پڑھئِے
وائٹ ہاوس سچویشن روم : ٹرمپ نے ایران پر کوئی فیصلہ نہیں کیا – urdureport.com
آبنائے ہرمز کی امریکہ ناکہ بندی ختم حتمی فیصلہ کروں گا،ٹرمپ کا اعلان – urdureport.com
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی شرائط مذاکراتی عمل کو مزید طول دے سکتی ہیں اور جنگ بندی یا سیاسی تصفیے کے امکانات کے بارے میں فیصلہ آنے میں کئی روز لگ سکتے ہیں۔ یہ کشیدگی اس تنازع کے بعد پیدا ہوئی تھی جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرا*ئیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں شروع ہوا۔
امریکی حکام کے مطابق مجوزہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری کا منتظر تھا، لیکن جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
جوہری ہتھیاروں پر موقف
صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی مستقل ضمانت اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی بنیادی شرائط ہوں گی۔ عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں ایران جانے والے ایک تجارتی جہاز کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گیمبیا کے پرچم بردار جہاز "لیان اسٹار” کو متعدد بار خبردار کیا گیا، تاہم ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد اس کے انجن روم کو ہیل فائر میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔


