جنوبی اٹلی میں ایک افسوسناک واقعے کے بعد اطالوی پولیس نے چار زرعی مزدوروں کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ مزدور ایک منی وین میں زندہ جل گئے تھے، جس کی جلی ہوئی باقیات کالابریا کے زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول پمپ سے ملی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔
Italy four person died in van pic.twitter.com/IjwkUad3x3
— Urdu Report (@UrduReportpk) June 3, 2026
اطالوی اخبار کوریئرے ڈیلا سیرا کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ واقعہ محض حادثہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو گاڑی کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
پانچویں شخص کے انکشافات
اطالوی میڈیا کے مطابق حملے میں ایک افغان شہری زندہ بچ گیا جبکہ چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین افغان اور ایک پاکستانی زرعی مزدور شامل تھا۔بچ جانے والے شخص نے بتایا کہ اس نے جلتی ہوئی گاڑی کی کھڑکی توڑ کر جان بچائی۔ اس کے مطابق گرفتار افراد نے سفر کے کرائے کا مطالبہ کیا تھا اور انکار پر جھگڑا شروع ہو گیا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مزدوروں کو سٹرابیری کے کھیتوں میں کام کے باوجود اجرت نہیں دی گئی تھی۔واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کالابریا کے صدر روبرٹو اوکیوٹو نے اسے غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انسانیت پر اعتماد کو متزلزل کرتا ہے۔
رپورٹ میں کیا گیا
رپورٹ کے مطابق چند لمحوں بعد منی وین میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ مبینہ ملزمان موقع سے فرار ہوتے نظر آئے۔ آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والے فائر فائٹرز نے جب گاڑی کا معائنہ کیا تو اندر سے چار افراد کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔
مذید پڑھئِے
آن لائن محبوبہ سے ملاقات ؟ آزاد کشمیر کا نوجوان ایل او سی پار کر گیا – urdureport.com
کرکٹ کو تبلیغیوں سے نقصان،لاٹھی کا ڈر :فواد چوہدری اور جنید خان آمنے سامنے – urdureport.com
مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے واقعے کو واضح طور پر قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کار اب اس المناک جرم کے تمام محرکات اور تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اخبار نے مزید بتایا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسی علاقے میں پاکستانی تارکین وطن کی استعمال شدہ گاڑیوں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے کم از کم 14 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جس سے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کالابریا کے اس زرعی خطے میں مختلف تارکین وطن گروہوں کے درمیان روزگار، رہائشی دستاویزات اور رہائش کی سہولیات کے حصول پر تنازعات پائے جاتے ہیں، جنہیں اس المناک واقعے کے ممکنہ پس منظر کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔


