تحریر : طارق اقبال چوہری

پاکستان، بھارت اور دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ارائیں (Arain) برادری برصغیر کی نمایاں زرعی برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم اس برادری کی اصل کے بارے میں مؤرخین میں آج بھی مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ بعض خاندانی روایات انہیں عرب النسل قرار دیتی ہیں، ارائیں ذات کے متعلق روایات ہیں کہ ان کے آباؤاجداد شامی عرب تھے، جو 712ء ميں مُحَمَّد بِن قَاسِم کے ہمراہ برصغير ميں داخل ہوئے۔ کچھ ایرانی یا راجپوت نسب کا ذکر کرتی ہیں، جبکہ جدید تاریخی تحقیق انہیں پنجاب کی مقامی زرعی برادریوں کا ارتقائی مجموعہ قرار دیتی ہے۔
آرائیں یا الراعی نظریہ (Al-Raee Theory)
لفظ ارائیں کی اصل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ کسی ایک نظریے پر اتفاق نہیں،بعض اہل دانش کے نزدیک لفظ ارائیں کوئی لفظ نہیں یہ راعی یا الراعی ہے جو کہ چرواہے کو کہتے ہیں،یہ مدینہ منورہ کے آس پاس ایک قبیلہ تھا جس میں کچھ لوگ نقل مکانی کرکے دریائے فرات کے کنارے جاکر آباد ہو گئے اور یہ وہی لوگ تھَےجس میں ایک دستہ محمد بن قاسم کے ساتھ انڈیا آیا تھا۔لفظ "اریحائی” وقت کے ساتھ مقامی لہجوں میں بدلتے ہوئے "ارائی” اور بعد ازاں "ارائیں" کی صورت اختیار کر گیا۔

محمد اکبر علی نے آرائیں برادری کی اصل کے بارے میں سب سے پہلے "الراعی نظریہ” (Al-Raee Theory) پیش کیا، جو ان کی کتاب سلیم التواریخ (Saleem al-Tawarikh) میں بیان کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق آرائیں وہ عرب تھے جو محمد بن قاسم (Muhammad ibn al-Qasim) کے ساتھ سندھ آئے۔ مصنف کے مطابق آراؤں کے ممتاز جدِ امجد شیخ سلیم الراعی (Shaikh Saleem al-Raee)، بنو امیہ کے حکمران یزید (Yazid) کے مظالم سے تنگ آ کر مدینہ سے ہجرت کر کے دریائے فرات کے کنارے آباد ہوئے، جہاں انہوں نے عربوں کے روایتی پیشے یعنی بھیڑ بکریاں چرانے کا کام اختیار کیا، جس کی وجہ سے انہیں "الراعی” (چرواہا یا نگہبان) کہا جانے لگا۔ عربی میں "راعی” کا مطلب نگہبان یا محافظ ہے۔
اس نظریے کے مطابق شیخ حبیب الراعی (Shaikh Habib al-Raee)، جو شیخ سلیم الراعی کے صاحبزادے تھے، آرائیں برادری کے جدِ امجد ہیں۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ ان کے لقب "الراعی” نے وقت کے ساتھ راعین، آرائین اور پھر آرائیں (Arain) کی شکل اختیار کی۔
تاریخِ آرائیں کے مصنف علی اصغر (Ali Asghar) نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر آرائیں برادری کے پس منظر سے متعلق ایک مختلف نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق آرائیں دراصل وہ عرب جنگجو تھے جو محمد بن قاسم (Muhammad ibn Qasim) کے ساتھ شام کے شمالی علاقے میں واقع شہر اریحا (Ariha) سے برصغیر آئے تھے۔ چونکہ انہیں محمد بن قاسم کے لشکر میں شیخ حلیم الراعی (Shaikh Haleem al-Raee) کا نام نہیں ملا، اس لیے انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا۔
بعد ازاں خلیفہ ولید بن عبدالملک اور حجاج بن یوسف کی وفات کے بعد جب خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے محمد بن قاسم کو واپس بلا لیا اور ان کا انتقال ہو گیا، تو بعض عرب سپاہیوں نے اپنے وطن واپس جانے کے بجائے برصغیر میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ روایت کے مطابق انہوں نے فوجی زندگی ترک کرکے زراعت اختیار کی اور وقت کے ساتھ سندھ سے پنجاب کے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے گئے، جہاں ان کی آئندہ نسلیں پھیل گئیں۔

تاہم تمام مستند ذرائع اس بات پر متفق ہیں کہ ارائیں صدیوں سے زراعت، باغبانی، سبزیوں اور پھلوں کی کاشت سےای وابستہ رہے ہیں۔ برطانوی دور میں بھی انہیں بنیادی طور پر ایک زرعی برادری کے طور پر بیان کیا گیا۔آرائیں قوم دین اسلام کی پیروکار ہے ۔
عرب النسل ہونے کا نظریہ
ارائیں برادری Arain caste/community کے بعض خاندان اپنی نسل کو عرب، خصوصاً انصارِ مدینہ سے جوڑتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ان کے آباؤ اجداد محمد بن قاسم کے دور میں برصغیر آئے اور بعد ازاں اُچ شریف، سرسا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے۔ برطانوی مؤرخ H. A. Rose نے اپنی کتاب A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province (1911) میں اس روایت کا ذکر کیا ہے کہ ارائیں اپنے نسب کو عربوں سے منسوب کرتے ہیں، تاہم انہوں نے اسے برادری کا دعویٰ قرار دیا اور تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا۔
اسی طرح سر ڈینزل ایبٹسن نے Panjab Castes میں ارائیں کو پنجاب کی ایک اہم زرعی برادری قرار دیتے ہوئے ان کی مختلف روایات بیان کیں، لیکن عرب النسل ہونے کے دعوے کی قطعی تصدیق نہیں کی۔ جدید مؤرخ، جن میں ڈاکٹر اشتیاق احمد بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ عرب نسب کی روایت بعض خاندانوں میں ضرور موجود ہے، مگر دستیاب تاریخی شواہد اس بات کو ثابت نہیں کرتے کہ پوری ارائیں برادری عرب نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے موجودہ تاریخی تحقیق میں عرب النسل ہونے کو ایک روایت سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت۔
بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ محمد بن قاسم کی مہم اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں پیش آئی، اس لیے اس لشکر میں عرب قبائل بعض خاندان شامل تھے ۔ یہ حقیقت ہے کہ صدیوں کے دوران برصغیر میں آباد ہونے والے عرب نژاد اور دیگر مسلم خاندان مقامی آبادی میں گھل مل گئے اور وقت کے ساتھ یہاں کی زبان، ثقافت اور سماجی روایات کا حصہ بن گئے۔
برطانوی ریکارڈ کیا بتاتا ہے؟
ارائیں برادری کے بارے میں سب سے اہم تاریخی حوالہ سر ڈینزل ایبٹسن (Sir Denzil Ibbetson) کی مردم شماری پر مبنی تحقیق اور بعد ازاں ہوریس آرتھر روز (H. A. Rose) کی شہرۂ آفاق کتاب A Glossary of the Tribes and Castes of the Punjab and North-West Frontier Province (1911) ہے۔

روز لکھتے ہیں کہ:
ارائیں برادریHistory of Arain caste in Punjab کی اصطلاح پنجاب کے مختلف علاقوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوتی تھی۔ مشرقی پنجاب میں ارائیں ایک مستقل برادری تھی، جبکہ بعض علاقوں میں باغبانی یا سبزی کاشت کرنے والوں کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا تھا۔ روز کے مطابق تقریباً تمام ارائیں مسلمان تھے، ان میں یہ روایت موجود تھی کہ ان کے آباؤ اجداد اُچ شریف سے سرسا اور بعد ازاں پنجاب کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ارائیں اور سینی (Saini) برادری کے بعض قبیلوں کے نام ایک جیسے ملتے ہیں، جبکہ بعض روایات کمبوہ برادری سے تاریخی تعلق کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان میں سے کسی ایک نظریے کو حتمی قرار نہیں دیا۔
اسی طرح سر ڈینزل ایبٹسن نے اپنی کتاب Panjab Castes میں ارائیں کو بنیادی طور پر پنجاب کی ایک اہم زرعی برادری قرار دیا اور ان کی مختلف روایات کا ذکر کیا، مگر کسی ایک ن
آرائیں قوم میں القابات
ارائیں برادری میں مہر، چوہدری اور سلیمی Mahar/Saleemi/Chaudhry in Arain caste جیسے القاب اور خاندانی نام عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، تاہم ان کی اصل کے بارے میں مختلف روایات اور آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق "مہر” عربی لفظ مُهر سے ماخوذ ہے، جس سے مراد خالص نسل کے گھوڑے کا بچہ ہے، اور کہا جاتا ہے کہ یہ لقب ایسے عرب سپاہیوں سے منسوب ہوا جو اعلیٰ نسل کے گھوڑوں پر سوار ہوتے تھے، تاہم اس کی تاریخی تصدیق دستیاب نہیں۔
اسی طرح "چوہدری” برصغیر کا ایک قدیم اعزازی لقب ہے جو زمینداروں، دیہی سرداروں یا بااثر شخصیات کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ اسے عربی الاصل نہیں سمجھا جاتا۔ "سلیمی” کے بارے میں بعض خاندانی روایات اسے عرب قبیلہ بنو سلیم یا محمد بن قاسم کی مہم میں شریک افراد کی نسل سے جوڑتی ہیں، لیکن اس دعوے کے حق میں بھی کوئی قطعی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔
مجموعی طور پر مؤرخین ان القاب اور نسبتوں کو برادری کی روایات کا حصہ قرار دیتے ہیں، تاہم انہیں ثابت شدہ تاریخی حقائق نہیں مانتے۔
جنگ آزادی میں حصہ
1857ء کی جنگِ آزادی میں ارائیں برادری Arain community in the War of Independence of 1857 کے متعدد افراد نے برطانوی حکومت کے خلاف حصہ لیا۔ معروف عالم مولانا محمد جعفر تھانیسری کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کر کے پہلے سزائے موت سنائی گئی، جو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر کے انہیں کالا پانی بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں وہ رہائی پا کر وطن واپس آئے۔
مذید پڑھئِے
مسجد اقصیٰ سے متصل بابا فریدؒ کی خانقاہ : ہندوستان سے صدیوں پرانا رشتہ آج بھی قائم – urdureport.com
لائلپور کا انقلابی بھگت سنگھ: جس نے سامراج سے پھانسی کی بجائے گولی کا مطالبہ کیا – urdureport.com
بعد کے برسوں میں ارائیں برادری کے کئی رہنماؤں نے تعلیمی، سیاسی اور تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ میاں افتخارالدین، جسٹس میاں شاہ دین اور دیگر شخصیات آل انڈیا مسلم لیگ اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں رہیں، جبکہ تقسیمِ ہند کے بعد ارائیں خاندانوں کی بڑی تعداد پاکستان آ کر آباد ہو گئی۔
جدید مؤرخین کی رائے
پاکستانی مؤرخ اور سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق ارائیں برادری کے بارے میں قدیم روایات میں کہیں سورج ونشی راجپوت اور کہیں ایرانی نسب کا ذکر ملتا ہے، تاہم ان کے نزدیک ارائیں پنجاب اور ہریانہ کی دیگر زرعی برادریوں کی طرح مختلف نسلی اور مقامی گروہوں کا امتزاج ہیں۔
اسی طرح کمار سریش سنگھ (K. S. Singh) نے اپنی کتاب People of India: Punjab میں لکھا کہ ارائیں اور کمبوہ برادریوں کے درمیان تاریخی قربت پائی جاتی ہے اور دونوں میں بنیادی فرق زیادہ تر مذہبی شناخت کا رہا۔

مغل، سکھ اور برطانوی دور
ڈاکٹر اشتیاق احمد کے مطابق مغل اور سکھ ادوار میں ارائیں برادری کے متعدد افراد فوج، انتظامیہ اور مقامی حکومتوں میں نمایاں مناصب پر فائز رہے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں شاہ عبدالقادر لدھیانوی جیسے ارائیں رہنماؤں نے برطانوی حکومت کے خلاف کردار ادا کیا۔ بعد ازاں برطانوی حکومت نے ابتدا میں ارائیں کو "نان مارشل” قرار دیا، لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں انہیں "Agricultural Tribe” کی درجہ بندی میں شامل کر لیا گیا۔ اسی دور میں پنجاب کی نہری کالونیوں میں زرعی ترقی کے لیے بھی ارائیں خاندانوں کو آباد کیا گیا، کیونکہ انہیں محنتی اور تجربہ کار کسان سمجھا جاتا تھا۔
ماضی کے سرکردہ عہدیدار
ارائیں برادری سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے مذہب، سیاست، عدلیہ، صحافت، فوج، تعلیم اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں حضرت شاہ عنایت علی (بلھے شاہ کے پیر و مرشد)، نور اللہ بصیرپوری، مہر اسماعیل جالندھری (چپ شاہ)، سائیں شادی شاہ قادری نوشاہی، حافظ فتح محمد اچھروی، آخری مغل گورنر پنجاب ادینا خان بیگ، جسٹس میاں شاہ دین،.
پاکستان کے پہلے چیف جسٹس جسٹس عبدالرشید، میاں محمد شفیع، بیگم جہاں آراء شاہ نواز، سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی، سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق، حنیف رامے، میاں محمد اظہر، برطانوی سیاست دان ساجد جاوید، چوہدری محمد سرور، صنعت کار چوہدری محمد لطیف، زرعی سائنس دان ڈاکٹر عبدالرشید، تحریکِ پاکستان کے رہنما میاں افتخار الدین شامل ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
تقسیم ہند کے بعد
1947ء کی تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب سے بڑی تعداد میں ارائیں خاندان پاکستان منتقل ہوئے اور لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، اوکاڑہ، ملتان، بہاولپور، کراچی اور دیگر شہروں میں آباد ہوئے۔ بعد کے عشروں میں انہوں نے زراعت کے ساتھ ساتھ تجارت، صنعت، تعلیم، قانون، سیاست اور فوج سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
برطانوی مردم شماری، Sir Denzil Ibbetson، H. A. Rose، ڈاکٹر اشتیاق احمد اور K. S. Singh سمیت دستیاب مستند تاریخی مآخذ کا مجموعی جائزہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ ارائیں برادری کی اصل کے بارے میں کوئی ایک نظریہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ مؤرخین کی غالب رائے یہ ہے کہ ارائیں پنجاب کی قدیم زرعی برادری ہیں۔
تاہم ایک بات پر اکثریت کا اتفاق نظر آتا ہے کہ ارائیں برادری کے لوگ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغیر میں داخل ہوئے اور کھیتی باڑی کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔


