گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل اسٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد بلیدی اور ان کے ڈرائیور حاتم بدل 13 مئی سے لاپتہ ہیں جن کے زندہ یا قتل کے بارئے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہو سکی، جبکہ چند روز بعد نوشکی میں ایک سینئر استاد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
کوئٹہ جاتے ہوئے رابطہ منقطع
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق مذکورہ چاروں افراد ایک سرکاری اجلاس میں شرکت کے لیے گوادر سے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے دیگر افسران الگ گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور وہ بحفاظت کوئٹہ پہنچ گئے، تاہم وائس چانسلر اور ان کے ساتھی مقررہ وقت پر منزل تک نہ پہنچ سکے۔
خاندان کے افراد اور یونیورسٹی انتظامیہ نے جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے موبائل فون مسلسل بند ملے، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو اطلاع دی گئی اور تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔
اغوا کا شبہ، لیکن ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ لاپتہ افراد کا آخری موبائل رابطہ قلات اور مستونگ کے درمیانی علاقے میں منقطع ہوا تھا۔ حکام کے مطابق اسی روز اس علاقے میں مسلح افراد کی جانب سے مبینہ ناکہ بندی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں، جس کے باعث اغوا کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔
تاہم اب تک کسی تنظیم یا گروہ نے ان افراد کی گمشدگی یا ممکنہ اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور بازیابی کے لیے سکیورٹی ادارے، پولیس اور مقامی سطح پر بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اہلِ خانہ کی بے چینی
وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 70 برس سے زائد ہے اور وہ شوگر سمیت مختلف طبی مسائل کا شکار ہیں، جس کے باعث خاندان کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق مسلسل کئی دن گزر جانے کے باوجود کوئی رابطہ یا اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ حکام کی جانب سے صرف یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ تلاش اور بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔
علمی خدمات اور تعلیمی کردار
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر بلوچستان کے معروف ماہر تعلیم، ادیب اور محقق سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف جامعات میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دیں اور متعدد علمی و تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیچ اور بعد ازاں گوادر یونیورسٹی کے قیام و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
اسی طرح پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد معاشیات کے شعبے کے معروف اسکالر ہیں جن کے متعدد تحقیقی مقالات بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جبکہ ڈاکٹر ارشاد احمد بلیدی یونیورسٹی کے تحقیقی اور انتظامی امور سے وابستہ اہم ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
نوشکی میں استاد کے قتل نے تشویش بڑھا دی
لاپتہ اساتذہ کے واقعے کے چند روز بعد نوشکی میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد خان المعروف غمخوار حیات کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مرحوم نہ صرف استاد تھے بلکہ ادبی حلقوں میں شاعر، افسانہ نگار اور مترجم کے طور پر بھی پہچانے جاتے تھے۔
مذید پڑھئِے
ثنا یوسف قتل کیس: مجرم کو سزائے موت 21 سال قید – urdureport.com
دنیا میں ایک بار پھر امریکی سائفر کی بازگشت – urdureport.com
پولیس کے مطابق قتل کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال اس قتل اور گوادر یونیورسٹی کے اساتذہ کی گمشدگی کے درمیان کسی تعلق کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔
اساتذہ تنظیموں کا تحفظات کا اظہار
تعلیمی تنظیموں اور اساتذہ نمائندوں نے حالیہ واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات اور کالجوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
اساتذہ تنظیموں کے مطابق بلوچستان پہلے ہی تعلیمی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں اساتذہ کو درپیش سکیورٹی خدشات تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی جلد بازیابی اور قتل کے ذمہ دار عناصر کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
حکومت کا مؤقف
بلوچستان حکومت کے مطابق لاپتہ اساتذہ کی بازیابی اور نوشکی میں پیش آنے والے قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے مختلف سطحوں پر کام کر رہے ہیں اور دونوں معاملات میں حقائق سامنے لانے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


