• Home  
  • میر رضا قتل کیس ! 10 افراد سے مالی معاملات پر پوچھ گچھ کا فیصلہ
- پاکستان

میر رضا قتل کیس ! 10 افراد سے مالی معاملات پر پوچھ گچھ کا فیصلہ

کراچی: میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے ایسے 10 افراد کی فہرست تیار کرلی ہے جن سے مقتول کے مالی معاملات اور قرض کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی نے فہرست میں شامل مختلف افراد سے […]

کراچی: میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے ایسے 10 افراد کی فہرست تیار کرلی ہے جن سے مقتول کے مالی معاملات اور قرض کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا علی نے فہرست میں شامل مختلف افراد سے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے لیے تھے۔ پولیس اب ان افراد سے قرض دینے کی وجوہات، مالی لین دین اور مقتول کے ساتھ تعلقات سے متعلق معلومات حاصل کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل ایک شخص عابد سے میر رضا نے تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد قرض لیا تھا، جبکہ مونی نامی شخص سے بھی 5 لاکھ روپے کا مالی لین دین سامنے آیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق ان افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کو دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر کیس کی تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ میر رضا کے مالی معاملات کو بھی قتل کیس کی تفتیش کے اہم پہلوؤں میں شامل کیا گیا ہے۔

میر رضا کا موبائل فون اور ڈیجیٹل واچ

دوسری جانب میر رضا علی کے موبائل فون اور ڈیجیٹل واچ سمیت اہم ڈیجیٹل شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ڈیوائسز اس سے قبل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے پاس فرانزک معائنے کے لیے موجود تھیں، تاہم بعد میں انہیں واپس لے کر این سی سی آئی اے کے ماہرین کے سپرد کردیا گیا۔

تحقیقاتی حکام کو امید ہے کہ موبائل فون اور ڈیجیٹل واچ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا میر رضا کی نقل و حرکت، رابطوں اور قتل سے قبل پیش آنے والے واقعات سے متعلق اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

ٹیکنیکل ماہرین کی مدد

میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والی نئی ٹیم نے شواہد کے تکنیکی تجزیے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

فارنزک حکام کے مطابق کیس میں پہلے سے حاصل کیے گئے شواہد اور آئندہ ملنے والے مواد کا ماہرین کی مدد سے جائزہ لیا جائے گا۔

حکام کے مطابق Integrated Ballistic Identification System (IBIS) میں خرابی کے باعث گولیوں کے خول کا خودکار ڈیٹا سے موازنہ ممکن نہیں، تاہم مائیکرو اسکوپ کے ذریعے فرانزک جانچ کا عمل جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پستول اور متعلقہ خول دستیاب ہوں تو دونوں کے درمیان مماثلت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

فرانزک شواہد

میر رضا علی کی 8 اگست کو قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم میں جسم پر متعدد زخموں کے نشانات سامنے آئے تھے۔

ابتدائی فرانزک رپورٹ کے مطابق جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں موجود تھیں، جبکہ پسلیوں کے فریکچر، سر اور چہرے پر زخم اور دائیں ران پر شدید چوٹ کے شواہد بھی ملے۔

رپورٹ کے مطابق جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں میں جبڑے، ناک اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹوں کے شواہد سامنے آئے۔

قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17 نمونے حاصل کیے گئے، جبکہ میر رضا کے والدین کے نمونے بھی ڈی این اے جانچ کے لیے لیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نمونے جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری میں جمع کرائے جائیں گے۔

قتل کیس کا پس منظر

میر رضا علی خان 28 جولائی کو کراچی کے پی ای سی ایچ ایس علاقے سے لاپتہ ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق وہ صبح تقریباً 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم بعد میں ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر سے برآمد ہوئی۔

پولیس کے مطابق لاش پر گولی لگنے سمیت تشدد کے نشانات بھی موجود تھے، جبکہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی لاش ملنے سے ایک روز قبل بند کیے گئے تھے۔

میر رضا کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے خوش تھے۔

پولیس میر رضا علی قتل کیس میں مالی معاملات، ڈیجیٹل شواہد، فرانزک رپورٹ اور دیگر پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!