ایران نے افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ایران کی اعلیٰ قیادت نے ملک کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو قومی سلامتی کا بنیادی جزو قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ مواد کسی بھی صورت میں ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنی ائی Mojtaba Khamenei نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی مذاکرات میں افزودہ یورینیئم کی بیرونِ ملک منتقلی پر اتفاق نہ کیا جائے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہدایت کے بعد تہران نے واشنگٹن کی اُس تجویز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے جس میں ایران کے افزودہ یورینیئم کو کسی تیسرے ملک کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مذید پڑھئِے
ایران سے یورینیم لیکر تباہ کر دیں گے ہمیں نہیں چاہیے،ٹرمپ – urdureport.com
یورینیم ایک دھات کیسے خطرناک جوہری بم میں تبدیل ہو جاتی ہے – urdureport.com
روس کی ایران کو افزودہ یورینیم منتقل کرنے میں مدد کی پیشکش – urdureport.com
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر Donald Trump اور اسر*ائیلی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہیں کہ ایران کے موجودہ ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی خدشات کم کیے جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ کسی ممکنہ معاہدے میں اس شرط کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایران کو موقف
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ملک کی دفاعی اور تزویراتی صلاحیت سے جڑا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق ایرانی ریاستی اداروں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر یہ مواد بیرونِ ملک منتقل کر دیا گیا تو مستقبل میں بیرونی دباؤ یا ممکنہ فوجی خطرات کے مقابلے میں ایران کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
ایران کے آئینی ڈھانچے میں سپریم لیڈر کو ریاستی پالیسیوں پر حتمی اختیار حاصل ہے، اسی لیے ان کی ہدایات کو ملکی فیصلوں میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
ایران کے پاس دستیان یورینیم
ادھر International Atomic Energy Agency کے اندازوں کے مطابق حالیہ کشیدگی سے قبل ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود تھا جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا تھا، جبکہ جوہری ہتھیاروں کے لیے عموماً 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودگی درکار سمجھی جاتی ہے۔
ایجنسی کے مطابق اس ذخیرے کا بڑا حصہ Isfahan اور Natanz Nuclear Facility کی جوہری تنصیبات میں رکھا گیا تھا، تاہم حالیہ حملوں اور سکیورٹی صورتحال کے بعد اس مواد کی موجودہ مقدار اور مقام کے بارے میں مکمل اور مصدقہ معلومات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔


