تحریر
طارق اقبال چوہدری

چودھویں بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی ممتاز محل کی زندگی کے سفر کا اختتام ہو گیا۔ مؤرخ قزوینی کے مطابق ممتاز محل نے اپنی اولاد سے دنیا کو چاند کی مانند روشن کر دیا تھا، مگر آخری بچے کو جنم دیتے ہوئے وہ خود مرجھا گئیں۔ شدید خون بہنے کے باعث ان کی حالت بگڑتی گئی اور بالآخر وہ 38 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ممتاز محل کے بعد شاہ جہاں کسی اور رشتے کی طرف مائل نہ ہوئے اور اپنی زندگی کے باقی سال انہی کی یاد اور محبت کے سہارے گزار دیے۔
ان کی موت صرف ایک ملکہ کی وفات نہیں تھی بلکہ ایک ماں، ایک وفادار شریکِ حیات اور شاہی خاندان کے مرکز کا بچھڑ جانا تھا۔ ممتاز محل کی جدائی نے شاہ جہاں کو اس قدر توڑ دیا کہ سلطنت کا طاقتور ترین بادشاہ بھی بے بسی اور غم کی تصویر بن گیا۔
ممتاز محل کے انتقال کے بعد شاہ جہاں نے رنگین لباس ترک کرکے سفید کپڑے پہن لیے اور کئی دن تک عوام کے سامنے نہ آئے۔ درباری مؤرخ عبدالحمید لاہوری کے مطابق غم کی شدت نے ان کے دل کے آئینے کو دھندلا دیا تھا۔ وہ اکثر اپنی محبوب بیوی کی قبر پر حاضری دیتے اور آنسو بہاتے۔
ابتدا میں ممتاز محل کو برہان پور میں دفن کیا گیا، مگر شاہ جہاں یہ قبول کرنے کو تیار نہ تھے کہ ان کی محبوب کی آخری آرام گاہ وہی رہے۔ چنانچہ انہوں نے آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک ایسی یادگار تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جو صدیوں تک ان کی محبت اور جدائی کی داستان سناتی رہے۔ یہی خواب بعد میں تاج محل کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔
دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والا تاج محل (Taj Mahal) صدیوں سے محبت کی استعارا سمجھا جاتا ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا یہ شاندار مقبرہ ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے، مگر اس خوبصورت عمارت کے پس منظر میں محبت، طاقت، سیاست، قربانی اور ایک المناک موت کی ایسی داستان چھپی ہے جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔

تاج محل بھارت کے شہر آگرہ (ریاست اتر پردیش) میں دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً 20 ہزار مزدوروں اور ایک ہزار ہاتھیوں نے حصہ لیا۔ مرکزی عمارت 1645 تک مکمل ہو گئی تھی، جبکہ اس کی تزئین و آرائش اور دیگر تکمیلی کام مزید تقریباً دس سال تک جاری رہے۔
شاہ جہاں (Shah Jahan) اور ممتاز محل (Mumtaz Mahal) کون تھے؟
مغل سلطنت کے پانچویں فرمانروا شاہ جہاں (Shah Jahan) کا پورا نام شہاب الدین محمد شاہ جہاں اول (Shahab-ud-Din Muhammad Shah Jahan I) تھا، جبکہ بعض تاریخی کتب میں ان کا نام مرزا شہاب الدین بیگ محمد خان خرم (Mirza Shahab-ud-Din Baig Muhammad Khan Khurram) بھی درج ہے۔ وہ 5 جنوری 1592 کو پیدا ہوئے اور 1628 میں تخت نشین ہو کر 1658 تک برصغیر پر حکومت کرتے رہے۔
دوسری جانب ممتاز محل (Mumtaz Mahal) کا اصل نام ارجمند بانو بیگم (Arjumand Banu Begum) تھا۔ وہ 27 اپریل 1593 کو آگرہ (Agra) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ابوالحسن آصف خان (Abul Hasan Asaf Khan) مغل دربار کے اہم ترین امراء میں شمار ہوتے تھے جبکہ وہ ملکہ نور جہاں (Nur Jahan) کی بھتیجی بھی تھیں۔
30 اپریل 1612 کو ارجمند بانو کی شادی شہزادہ خرم (Prince Khurram) سے ہوئی۔ یہ ممتاز محل کی پہلی جبکہ شہزادہ خرم کی تیسری شادی تھی۔ شادی کے بعد شہزادہ خرم نے اپنی اہلیہ کو "ممتاز محل” (Mumtaz Mahal) کا خطاب دیا، جس کا مطلب ہے "محل کی سب سے ممتاز خاتون”۔
ممتاز محل اور شاہی مہر
مؤرخین کے مطابق ممتاز محل (Mumtaz Mahal) صرف شاہ جہاں (Shah Jahan) کی محبوب ترین بیوی ہی نہیں تھیں بلکہ ان کی سب سے قریبی رازدار اور مشیر بھی تھیں۔ شاہ جہاں حکومتی اور خاندانی معاملات میں اکثر ان سے مشورہ کرتے تھے اور کئی اہم فیصلے ان کی رائے کے بغیر نہیں کیے جاتے تھے ان کو اپنے ساتھ اہم معاملات میں بھی مدعو کرتے۔
کچھ تاریخ دان تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ ممتاز محل کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ تھا کہ وہ غیر رسمی طور پر سلطنت کے اہم معاملات پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ انہیں شاہی مہر استعمال کرنے کی اجازت بھی حاصل تھی، جو مغلیہ سلطنت میں غیر معمولی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ممتاز محل کو سیاسی اقتدار کی خواہش نہیں تھِ نہ کبھی اس نے غیر معمولی خواہش کا اظہار کیا مگر وہ اپنے غیر معمولی اثر کو اکثر غریبوں اور ناداروں کی مدد کے لیے استعمال کرتی تھیں۔

ممتاز محل کی ایک پینٹنگ، جس میں انہوں نے پھول پکڑ رکھا ہے (فوٹو: وکی پیڈیا)
شاہ جہاں کو اپنی حکومت کے دوران نہ صرف سیاسی چیلنجز بلکہ خاندانی سازشوں اور اقتدار کی کشمکش کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ خصوصاً شہزادوں اور شاہی خاندان کے اندر پیدا ہونے والی رقابتوں کے دوران ممتاز محل ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔ممتاز محل نے وفا نبھائی اور تاریخ میں امر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئیے
محبوب نبیﷺ سے محبت : جب لیجنڈ محمد علی کا ستارہ دیوار میں لگا – urdureport.com
جنگی محاذ کی ساتھی
ممتاز محل کی زندگی کا ایک منفرد پہلو یہ بھی تھا کہ وہ صرف شاہی محل تک محدود نہیں تھیں۔ جب بھی شاہ جہاں کو بغاوتوں کے خاتمے یا فوجی مہمات کے لیے سفر کرنا پڑتا، ممتاز محل اکثر ان کے ساتھ جاتیں ان کو مشورے دیتی ان کی مدد کرتی اور مشکل سے نکالنے کے لیے ہر اقدام اٹھاتی۔
دیگر بیگمات کے مقابلے میں انہیں غیر معمولی مراعات حاصل تھیں۔ بادشاہ اپنا زیادہ تر وقت انہی کے ساتھ گزارتے تھے اور محل میں ان کا مقام سب سے بلند سمجھا جاتا تھا۔
چودھویں زچگی اور المناک موت
شاہی جوڑے کی ازدواجی زندگی کے دوران 14 بچوں کی پیدائش ہوئی۔ مسلسل حمل اور زچگی نے ممتاز محل کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔
17 جون 1631 کو برہان پور (Burhanpur) میں چودھویں بچے کی پیدائش کے دوران شدید پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔ تقریباً 30 گھنٹے تک جاری رہنے والی زچگی کے بعد انہوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام گوہر آرا بیگم (Gauhar Ara Begum) رکھا گیا، تاہم شدید خون بہنے کے باعث ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔
17 جون 1631 کو چہیتی بیوی ارجمند بانو بیگم المعروف ممتاز محل کی اچانک اور غیر متوقع موت نے نہ صرف شاہی قلعے کی فضا سوگوار بنا دی بلکہ شاہ جہاں کو دم بخود کر دیا اور غالباً پہلی بار ایسا ہوا کہ وہ زار و قطار رو پڑے۔
38 سال کی عمر میں ممتاز محل دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کی وفات نے شاہ جہاں کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔
غم جس نے ایک بادشاہ کو بدل دیا
ممتاز محل کی موت کے بعد شاہ جہاں کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔ روایت ہے کہ انہوں نے خود کو دنیاوی سرگرمیوں سے محدود کر لیا۔
وہ سفید لباس پہننے لگے، موسیقی سے دلچسپی ختم کر دی، اور مسلسل گریہ و زاری کے باعث ان کی بینائی بھی متاثر ہوئی۔ درباری مؤرخین کے مطابق ان کے بال تیزی سے سفید ہونے لگے اور وہ طویل عرصے تک غم سے باہر نہ آ سکے۔
تاج محل (Taj Mahal) کی تعمیر
اپنی محبوب بیوی کی یاد میں شاہ جہاں نے ایک ایسی یادگار تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا جو رہتی دنیا تک ان کی محبت کی گواہی دے سکے۔

ممتاز محل کو پہلے برہان پور (Burhanpur) میں دفن کیا گیا، بعد ازاں ان کی میت آگرہ (Agra) منتقل کی گئی جہاں دریائے جمنا (Yamuna River) کے کنارے تاج محل کی تعمیر شروع ہوئی۔
مشہور مؤرخ جادو ناتھ سرکار (Jadunath Sarkar) نے اپنی کتاب Studies in Mughal India میں لکھا ہے کہ ممتاز محل نے وفات سے قبل شاہ جہاں سے اپنی یاد میں ایک عظیم مقبرہ تعمیر کرنے کا وعدہ لیا تھا۔
تاج محل کی تعمیر میں تقریباً 20 ہزار مزدوروں اور ایک ہزار ہاتھیوں نے حصہ لیا۔ مرکزی عمارت 1645 تک مکمل ہو گئی، تاہم اس کی آرائش اور تکمیلی کام مزید دس برس تک جاری رہا۔
تقریباً 42 ایکڑ پر محیط اس عظیم الشان کمپلیکس میں مرکزی مقبرے کے علاوہ ایک مسجد، مہمان خانہ، باغات اور دیگر عمارتیں بھی شامل ہیں۔ اس پر اس دور کے تقریباً ساڑھے تین کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو موجودہ دور میں اربوں روپے کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔
1983 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو (UNESCO) نے تاج محل کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔
زندگی کا دوسرا رخ
اگرچہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کی محبت کی داستان کو رومانوی انداز میں بیان کیا جاتا ہے، تاہم بعض مؤرخین اس تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں۔
کچھ تاریخی حوالوں کے مطابق ممتاز محل مسلسل حمل اور بچوں کی پیدائش کے معاملے پر پریشان رہتی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس حوالے سے اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
بعض محققین کا خیال ہے کہ شاہی تاریخ نویسوں نے اس رشتے کے صرف مثبت پہلوؤں کو نمایاں کیا جبکہ اندرونی کشیدگیوں اور ذاتی مشکلات کا کم ذکر کیا گیا۔
سنہ 2014 میں بھارت (India) میں بننے والے ڈرامہ "Shah Jahan Aur Mumtaz” میں بھی انہی کم معروف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
شاہجہان کی بیویاں
ممتاز محل کی وفات کے بعد شاہ جہاں کی زندگی پر تنہائی اور غم کا ایسا سایہ چھا گیا جو ان کی موت تک برقرار رہا۔ مؤرخ ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کے مطابق، اگرچہ مغل بادشاہوں کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ ان کی متعدد بیویاں ہوتی تھیں، لیکن شاہ جہاں نے صرف تین شادیاں کیں اور ممتاز محل کے انتقال کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی۔ ان کے بقول شاہ جہاں نے اپنی باقی زندگی ایک رنجیدہ اور تنہا شخص کی طرح گزاری، جس کے دل میں اپنی محبوب بیوی کی یاد ہمیشہ زندہ رہی۔
تاریخی روایات کے مطابق شاہ جہاں کی پہلی شادی قندھاری بیگم سے ہوئی تھی، جن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جبکہ بعد میں عزالنسا بیگم سے بھی ان کا نکاح ہوا جن سے ایک بیٹا پیدا ہوا، تاہم دونوں بچے کم عمری میں وفات پا گئے۔ دوسری جانب ممتاز محل نہ صرف ان کی سب سے محبوب شریکِ حیات تھیں بلکہ ان کی مشیر اور رازدار بھی تھیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ممتاز کی جدائی کے بعد شاہ جہاں کسی اور رشتے کی طرف مائل نہ ہوئے اور اپنی زندگی کے باقی سال انہی کی یاد اور محبت کے سہارے گزار دیے۔
محبت کی علامت یا ماں کی قربانی؟
آج تاج محل کو دنیا محبت کی سب سے خوبصورت یادگار سمجھتی ہے، مگر بہت سے مؤرخین اور طبی ماہرین اسے زچگی کے دوران خواتین کو درپیش خطرات کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔
ممتاز محل تقریباً ہر سال حاملہ رہیں اور مسلسل حاملہ ہونے کی وجہ سے ان کےاجسم کمزور ہو گیا۔ بالآخر چودھویں زچگی ان کی زندگی کا آخری باب ثابت ہوئی۔
اسی لیے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تاج محل صرف شاہ جہاں کی محبت کا استعارہ نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی قربانی کی یادگار بھی ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ خاندان، شوہر اور اولاد کے لیے وقف کر دیا۔
22 جنوری 1666 کو شاہ جہاں (Shah Jahan) بھی وفات پا گئے اور انہیں تاج محل (Taj Mahal) میں ممتاز محل (Mumtaz Mahal) کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ آج بھی دونوں کی قبریں ایک ہی مقبرے میں موجود ہیں اور تاج محل محبت، جدائی، قربانی اور تاریخ کے امتزاج کی ایک لازوال علامت کے طور پر دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔
یہ بھی بڑھئِے


