تحریر : طارق اقبال چوہدری

لاھور کے قذافی سٹیڈیم میں 17 جون 1979 کو 40ہزار تماشاِہوں کے مجمے نے ایک سو روپے(اس وقت تقریباًدس ڈالر) کی پہلی مہنگی ترین ٹکٹ خریدی اور پرجوش انداز میں نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے مگر یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں بلکہ ایک دنگل تھا جسے دیکھنے یہ لوگ آئے۔اس کشتی میں پاکستان کے ناقابل شکست زبیر عرف جھارا پہلوان نے وقت کے عظیم جاپانی انوکی پہلوان کو شکست دی اور انوکی نے پانچ راونڈ کی کشتی کے آخر میں خود جھارا پہلوان سے ہار تسلیم کی۔ بعد ازاں دونوں پہلوانوں کی دوستی ہو گئی اور انوکی نے جھارا پہلوان کے بھتیجے کو جاپان لے جاکر پہلوانی کی ٹرینگ دی۔
انوکی Antonio Inoki جاپان کے معروف پروفیشنل ریسلر، مارشل آرٹسٹ جنہیں دنیا بھر میں ریسلنگ کے عظیم ترین ستاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے متعدد بین الاقوامی مقابلوں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انوکی نے باکسنگ لیجنڈ محمد علی Muhammad Aliسمیت کئی عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کا سامنا کیا۔لیکن ان کا لاھور میں 1979 میں نوجوان پاکستانی جھارا پہلوان سے مقابلہ جس میں جھارا نے فتح حاصل کی اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔ دنیا آج بھی جھارا پہلوان کی انکوکی پہلوان سے مقابلے کی مثالیں دیتی ہے۔
لاہور کے تاریخی علاقے پیر مکی میں واقع بھولو خاندان کے اکھاڑے میں آج بھی ایک بلند چبوترے پر ایک قبر موجود ہے جو پاکستان کی پہلوانی تاریخ کے ایک درخشاں مگر المناک باب کی یاد دلاتی ہے۔ یہ قبر محمد زبیر المعروف جھارا پہلوان کی کی ہے، جن کا انتقال 10 ستمبر 1991 کو محض 31 برس کی عمر میں ہوا۔ کم عمری میں دنیا سے رخصت ہونے والے جھارا پہلوان کو پاکستان کے عظیم ترین نوجوان پہلوانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
گاما پہلوان کا خاندان
جھارا پہلوان 24 ستمبر 1960 کو لاہور میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جس کا نام برصغیر کی پہلوانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ ان کے والد محمد اسلم المعروف اچھا پہلوان رستمِ پنجاب اور رستمِ ایشیا تھے، جبکہ تایا بھولو پہلوان، چچا اکرم پہلوان، اعظم پہلوان اور دیگر رشتہ دار بھی اپنے دور کے نامور شہ زور شمار ہوتے تھے۔ وہ عظیم گاما پہلوان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ان سے غیر معمولی توقعات وابستہ تھیں۔
بچپن ہی سے ان کی دلچسپی تعلیم سے زیادہ پہلوانی میں تھی۔ پرائمری امتحان میں ناکامی کے بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر اکھاڑے کا رخ کیا اور بھولو پہلوان کی نگرانی میں سخت تربیت کا آغاز کیا۔ خاموش مزاج مگر غیر معمولی جسمانی قوت رکھنے والے جھارا جلد ہی اکھاڑے کے نمایاں شاگرد بن گئے۔ ان کے ابتدائی مقابلے چند منٹوں میں ختم ہو جاتے اور حریف ان کی طاقت اور پھرتی کے سامنے بے بس دکھائی دیتے۔
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مرحوم اہلیہ کلثوم نواز اور جھارا پہلوان کا تعلق ایک ہی پہلوان خاندان سے تھا اور دونوں آپس میں کزن (رشتہ دار) تھے۔
انوکی سے جھارا کا مقابلہ کیوں ہوا؟
1976 میں جاپان کے عالمی شہرت یافتہ ریسلر Antonio Inoki نے جھارا کے چچا اکرم پہلوان کو شکست دی تھی۔ یہ شکست بھولو خاندان کے لیے بڑا دھچکا سمجھی گئی اور اسی وقت نوجوان جھارا نے انوکی کا مقابلہ کرنے کا عزم کر لیا۔ اگلے چند برسوں میں انہیں خصوصی تربیت دی گئی۔ روزانہ ہزاروں بیٹھکیں اور ڈنڈ، طویل دوڑیں، دریائے راوی کو تیر کر عبور کرنا اور سخت جسمانی مشقیں ان کے معمول کا حصہ بن گئیں۔

بالآخر 17 جون 1979 کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں وہ تاریخی دن آیا جس کا پورا ملک انتظار کر رہا تھا۔ ہزاروں شائقین کے سامنے 19 سالہ جھارا پہلوان کا مقابلہ عالمی شہرت یافتہ جاپانی ریسلر انوکی سے ہوا۔ مقابلے کے دوران جھارا مسلسل جارحانہ انداز اپنائے رہے جبکہ انوکی دفاعی حکمت عملی اختیار کرتے دکھائی دیے۔ کئی مواقع پر جھارا نے انہیں رنگ میں گرا دیا، دھوبی پٹکا لگایا اور ایک بار تو رنگ سے باہر بھی دھکیل دیا۔ پانچ راؤنڈ مکمل ہونے پر اگرچہ مقابلہ برابر قرار دیا گیا، لیکن انوکی نے خود آگے بڑھ کر جھارا کا ہاتھ بلند کر دیا اور ان کی برتری تسلیم کی۔ یہ لمحہ پاکستانی کشتی کی تاریخ کے یادگار ترین مناظر میں شمار ہوتا ہے۔
انوکی کے خلاف کامیابی کے بعد جھارا پہلوان ملک بھر میں ہیرو بن گئے۔ ان کا نام پاکستان کی پہلوانی روایت کی نئی علامت بن گیا اور انہیں مستقبل کا عظیم ترین پہلوان قرار دیا جانے لگا۔
جھارا کی انوکی سے دوستی

اس کشتی کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد جھارا اور انوکی کی دوستی ہو گئی ،جھارا پہلوان کے 17 سالہ بھتیجے ہارون عابد کی تربیت پھر انکوکی پہلوان نے خود کی وہ ان کو اپنے ساتھ جاپان لے گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان کے لیجنڈ ریسلر محمد حسین انوکی (Antonio Inoki) نے ہارون عابد کی تربیت بھی کی، وہی انوکی جن کا 38 سال قبل جھارا پہلوان سے تاریخی مقابلہ ہوا تھا۔ وقت کے ساتھ جھارا پہلوان اور انوکی کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے تھے۔
جاپان کے عالمی شہرت یافتہ ریسلر Antonio Inoki کے بارے میں معروف ہے کہ انہوں نے 1990 کی دہائی میں اسلام سے قربت اختیار کی اور محمد حسین انوکی کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ اس عرصے میں وہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد دوروں اور سفارتی سرگرمیوں میں شریک رہے،
انوکی کے اسلام قبول کرنے کی تاریخ اور طریقۂ کار کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق انہوں نے باقاعدہ اسلام قبول کیا، جبکہ دیگر کے مطابق انہوں نے مسلمانوں اور اسلامی ثقافت سے عقیدت کے اظہار کے طور پر "محمد حسین” نام اپنایا۔انہوں نے 1972 میں اپنی ریسلنگ تنظیم قائم کی اور متعدد بین الاقوامی مقابلوں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انوکی کو پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں انہیں محمد حسین انوکی کے نام سے جانا جاتا تھا۔جاپان کے مشہور ریسلر اور سیاست دان Antonio Inoki کا انتقال یکم اکتوبر 2022 کو 79 سال کی عمر میں ہوا۔
جھارا پہلوان کی خوراک
جھارا پہلوان روایتی پہلوانی نظام کے مطابق وہ روزانہ تقریباً دو کلو گوشت، تین کلو گوشت کی یخنی، دو کلو دودھ اور مختلف پھلوں کے جوس استعمال کرتے تھے تاکہ مسلسل ورزش اور جسمانی مشقت کے دوران توانائی برقرار رہے۔
مقابلوں کی تیاری کے دوران ان کی غذا میں بادام کی سردائی، مکھن اور دیگر روایتی مقوی اجزا بھی شامل ہوتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورزش کے دوران انہیں چاندی کے ورق، چھوٹی الائچی اور دیگر غذائی اجزا پر مشتمل خاص مرکب بھی دیا جاتا تھا۔ یہی بھرپور غذا اور سخت ورزش جھارا پہلوان کو اپنے دور کے طاقتور ترین نوجوان پہلوانوں میں شمار کراتی تھی۔
جھارا کا زوال
1980 کی دہائی میں جھارا پہلوان کا دائرۂ دوستی ایسے افراد تک پھیل گیا جنہوں نے انہیں اکھاڑے سے دور کر دیا۔ مقامی تنازعات، منشیات کے استعمال نے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچایا اور آہستہ آہستہ اکھاڑے سے باہر چلے گئے۔
1984 میں ان کا ایک اہم مقابلہ ہوا، لیکن اس وقت تک وہ اپنے عروج سے کافی دور جا چکے تھے۔ اگرچہ وہ عملی طور پر ناقابلِ شکست رہے اور کسی پہلوان نے انہیں واضح طور پر نہیں ہرایا، تاہم ان کی جسمانی حالت مسلسل کمزور ہوتی گئی۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے مقابلہ جاتی کشتی تقریباً ترک کر دی اور اکھاڑے سے ان کا تعلق محدود ہو کر رہ گیا۔
جھارا پہلوان نے کئی مضبوط حریفوں کو شکست دے کر "رستمِ پاکستان” کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے بڑے بھائی گاما پہلوان ثانی بھی معروف پہلوان تھے، جبکہ ان کا خاندان برصغیر کے عظیم پہلوان گاما پہلوان کی روایات سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
جھارا کی وفات
10 ستمبر 1991 کو جھارا پہلوان کا دل حرکت کرنا بند کر گیا اور وہ صرف 31 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نے پاکستانی پہلوانی کے ایک روشن باب کو وقت سے پہلے ختم کر دیا۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر وہ منشیات اور دیگر مسائل سے محفوظ رہتے تو شاید عالمی سطح پر پاکستان کے سب سے بڑے پہلوانوں میں شمار ہوتے۔
آج تین دہایوں بعد بھی جھارا پہلوان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انوکی کے خلاف ان کا تاریخی مقابلہ، ان کی غیر معمولی جسمانی صلاحیت اور ان کی المناک زندگی پاکستانی کھیلوں کی تاریخ کا ایک ایسا قصہ ہے جس میں عظمت، شہرت اور زوال تینوں کی جھلک نظر آتی ہے۔
مذید پڑھئیے


